سوات مدرسے میں استاد کا بیہمانہ تشدد، طالبعلم جاں بحق، مدرسہ سِیل کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
سوات کے علاقے خوازہ خیلہ چالیار میں واقع ایک مدرسے میں استاد کے مبینہ تشدد سے ایک معصوم بچہ جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک استاد کو گرفتار کر لیا جبکہ 2 دیگر اساتذہ کی تلاش جاری ہے۔
Swat,
According to a fellow student, madrasa teachers tortured the child for five hours for refusing to attend madrasa.
— Anwar Shaheen (@Anwar_Afghan1) July 22, 2025
ڈی پی او سوات کے مطابق مدرسے میں کئی مہینوں سے بچوں پر تشدد جاری تھا، جس کے شواہد سامنے آنے پر مزید 9 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصے کی فضا پیدا کر دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور بچوں پر تشدد میں استعمال ہونے والا سامان مدرسے سے برآمد کر لیا گیا ہے۔
The Swat madrassa where a child died at the hands of a teacher.
Look at how petrified the remainder of the children are-they witnessed the barbarism.
No accountability/monitoring in place. School and teachers are complicit. #زنجیریں_توڑ_کر_نکلیں_گے
pic.twitter.com/LjZodN7I0c
— Saffina Ellahi (@SaffinaEllahi1) July 22, 2025
واقعے کے بعد پولیس نے مدرسے میں زیر تعلیم تمام بچوں کو والدین کے حوالے کر دیا ہے اور حفاظتی اقدامات کے تحت مدرسے کو سیل کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او نے واضح کیا کہ تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس واقعے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استاد گرفتار سوات سوات مدرسہ طالبعلم جاں بحق
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استاد گرفتار سوات سوات مدرسہ طالبعلم جاں بحق گیا ہے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔