ایرانی میزائل حملوں میں اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر ملیامیٹ، وزارت دفاع میں آگ بھڑک اٹھی
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
تل ابیب (اوصاف نیوز)ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی وار کیا ہے۔ رات بھر میں اسرائیل کے مختلف شہروں پر 5 مرحلوں میں سیکڑوں میزائل داغے۔ وزارت دفاع کی عمارت کے قریب آگ بھڑک اٹھی۔ فوجی ہیڈکوارٹر بھی ملیامیٹ کر دیا۔
ایران کی جانب سے صرف پہلے دو مرحلوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ سو میزائل داغے گئے۔ حملوں سے تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا۔ 50 منزلہ عمارت تباہ ہو گئی۔ کئی مقامات پر دھوئیں کے بادل اٹھتے رہے ۔ ایرانی حملوں میں ایک خاتون ہلاک 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل حملے سے تل ابیب کے جنوب میں ایٹمی ریسرچ سینٹر پر حملہ کیا گیا، حملے سے ایٹمی ریسرچ سینٹر کو نقصان پہنچا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نےعوام کے نام پیغام میں کہا کہ آپریشن وعدہ صادق سوم بے گناہ لوگوں کی خون کا بدلہ ہے۔ صیہونی حکومت سزا سے بچ نہیں سکے گی ۔ حملے کا پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔ اسرائیل کو مفلوج کر کے دم لیں گے۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی بولے جارحیت کا جواب دینا ہمارا جائز حق ہے ۔ پوری عسکری قوت دکھائیں گے۔
Tel Aviv right now.
— Jackson Hinkle ???????? (@jacksonhinklle) June 14, 2025
ایران نے اپنی سرزمین پر 2 اسرائیلی جنگی طیارے مار گرانے اور خاتون پائلٹ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایران کے فضائی دفاع نے 2 اسرائیلی جنگی طیاروں کو مار گرایا جبکہ ایک خاتون پائلٹ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے تاہم اسرائیلی نے ایران کے ہاتھوں خاتون پائلٹ کی گرفتاری کی تردید کر دی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں کی شدت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تہران رات بھر دھماکوں سے گونجتا رہا۔ صیہونی طیاروں نے مہر آباد ایئر بیس پر بمباری کی۔ حمدان اور تبریز سمیت ایرانی فضائیہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اصفہان کے رئیسی پاور پلانٹ میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی حملوں کے جواب میں تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے اب تک 200 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ایران کا بھرپور جواب: اسرائیل دھماکوں سے گونج اٹھا، متعدد یہودی ہلاک،عمارتیں ڈھیر میں تبدیل
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کیا ہے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔