Daily Ausaf:
2026-07-24@04:38:24 GMT

اسرائیلی حملہ اور دو ریاستی حل

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

ایک طرف فلسطینیوں پر زمین مزید تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے ایران پر ایک اور حملہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ایران کی ٹاپ ملٹری قیادت، نیوکلئیر سائنس دانوں، میزائل کے اڈوں اور کم از کم ایک نیوکلئیر پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا جس سے کچھ اہم ایرانی جنرل اور دو ٹاپ نیوکلئیر سائنس دان شہید ہوئے۔ اسرائیل نے دعوی کیا کہ ایرانی فوج کے سربراہ چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری شہید کر دئیے گئے۔ تاہم بعض ایرانی ذرائع اس کی تردید کر رہے ہیں۔
البتہ پاسداران اسلام کے چیف جنرل سلامی کی شہادت کنفرم ہو گئی ہے۔ جنرل غلام علی رشید اور نیوکلیئر سائنس دانوں ڈاکٹر تہرانچی اور فریدون عباسی کی شہادت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ شدید بدلہ لیں گے۔ امریکہ نے آفیشل سطح پر اس حملے کی واضح تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اطلاعات ہیں کہ شائد صدر ٹرمپ اس موقعہ پر یہ کارروائی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کو روکیں گے۔ مڈل ایسٹ میں امریکہ نے اپنا عملہ اور ملٹری بیسز سے پہلے ہی طیارے نکال لیئے تھے۔ اس وقت ہر طرف ہائی الرٹ چل رہا ہے اور ایران کی طرف سے شدید جوابی حملے کی توقع کی جارہی ہے۔
لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ کو اپنی ’’رئیل اسٹیٹ‘‘ بنانے کا منصوبہ اپنے آغاز کے قریب آ رہا ہے۔ اس حملے سے قبل اچانک سپین، جرمنی اور کچھ دیگر یورپی ممالک نے اسرائیلی بربریت پر اسے پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دی تھیں۔ اس حملے سے قبل امریکہ نے بھی بظاہر اسرائیل پر دبائو بڑھایا تھا تاکہ مشرق وسطی میں فلسطین کے مسئلے پر اگلے ’’گیم پلان‘‘ کو شروع کیا جا سکے۔
دوسری طرف جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطی کے دورے پر گئے تھے تو وہ اسرائیل نہیں گئے تھے۔ ایک امریکی صدر مِڈل ایسٹ جائے اور اسرائیل نہ جائے، ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اس دورے کے دوران اربوں ڈالر کی آرمز ڈیلز سائن ہوئیں، حماس کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک امریکی ہاسٹیج کی رہائی یقینی بنائی گئی، شام پر لگی امریکی پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا گیا، اور یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی حملے ختم کر دیئے گئے۔ ادھر ایران کے ساتھ مذاکرات کی خبریں بھی آتی رہی تھیں، اور حماس نے بھی اِس بات کی تصدیق کی کہ وہ غزہ پر امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہا ہے۔
عرب ممالک کی طرح اگر پاکستان بھی عقل مندی اور عالمی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے تو فلسطین کے بارے میں اسے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اہل پاکستان فلسطینیوں کے پاکستان کے بارے نظریات اور خیالات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اس معاملے میں مسلم ممالک کی بے حسی پر بات کریں تو وہ بہت حد تک علاقائی مسائل سے وابستہ ہے۔ اس کو بزدلی سے ہرگز تعبیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثال پاک بھارت مئی 2025 ء کی جنگ ہے جس میں پاکستان نے بھارت سے کئی گنا چھوٹے اور معاشی طور پر کمزور ہونے کے باوجود بھارت کو منہ توڑ شکست سے دوچار کیا۔
جب غزہ کی جنگ کا آغاز ہوا تھا تو اس میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کرنے میں پہل کی تھی۔ پاکستان پر حملہ کرنے میں بھی بھارت نے پہل کی جسے منہ کی کھانی پڑی۔ اب اتنا نقصان کروانے کے باوجود فلسطین کا جلد کوئی حل نہیں نکلتا ہے چاہے وہ’’دو ریاستی‘‘ حل ہی کیوں نہ ہو تو مصدقہ بات ہے کہ فلسطینیوں کی بے رحمانہ نسل کشی یونہی جاری رہے گی۔
اسرائیل کو اگر مسلم امہ کی عظیم ترین عثمانی سلطنت کا جد امجد ترکی تسلیم کر سکتا ہے، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک تسلیم کر سکتے ہیں تو فلسطین کو مکمل آزادی ملنے کی قیمت پر پاکستان اسے کیوں تسلیم نہیں کر سکتا ہے؟ اسرائیل اور ترکی کے درمیان 1949 ء میں اسرائیل کے قیام کے ایک سال کے اندر ہی سفارتی تعلقات قائم ہو گئے تھے اور ترکی مسلم اکثریت کا وہ پہلا ملک تھا جس نے سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا!
حالانکہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے کے عین قریب تھا اور یہ ان کی اپنی غلطی سے ہوا کہ انہیں فلسطین کا آباد علاقہ اور دیگر شہر مل رہے تھے.

لیکن انہوں نے تقسیم قبول نہیں کی اور اسرائیل پر حملہ کر دیا، جس پر یہ مثال صادق آتی ہے کہ، ’’آدھی چھوڑ ساری کو جاوے ، آدھی رہے نہ ساری پاوے‘‘۔
بے شک ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور انشااللہ یہ ظلم بھی مٹ کر ہی رہے گا۔ لیکن افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ خود مسلم دنیا ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کو پروموٹ کرتی ہے کہ اس سے ہمسایہ عرب ممالک بھی ایک دن لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔’’تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے، ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!‘‘مسلم دنیا کو چایئے کہ وہ اسرائیل کو آگے بڑھنے اور مزید طاقتور بنانے سے روکنے کے لیئے اس کی آزادی کو تسلیم کر لیں تاکہ خطے میں امن قائم ہو جائے اور اور غزہ میں سسکتی ہوئی انسانیت کو بھی زندہ رہنے کا حق مل سکے۔
غزہ کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہونا افسوسناک ہے مگر اس کے بدلے میں غزہ کے مسلمان پناہ گزینوں کو قانونی طور پر یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور کنیڈا وغیرہ ایڈجسٹ کرتا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ ٹھیک ہے مصر اور اردن غزہ کے برباد مسلمان بھائیوں کو قبول نہیں کرتے تو نہ کریں اس سے ’’امہ‘‘ کا تصور باقی بچتا ہی کہاں ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے پر بضد ہے۔
اس دور میں سوشل میڈیا سب سے بڑی آواز اور ایک ناگزیر طاقت ہے، اس لئے ہم سب کو مظلوم فلسطینیوں کے لئے آواز اٹھاتے رہنا چاہیئے جتنا ہم کر سکتے ہیں اتنا ہمیں کرنا چایئے کہ جب تک اسرائیل کی طرح فلسطین کو ایک مکمل اور خود مختار ریاست کا درجہ نہیں ملتا ہے تب تک دنیا فلسطین کے مسئلے سے منہ موڑے رکھے گی۔
اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی غزہ کو ایک پرامن اور پرآسائش’’سیر گاہ‘‘ بنانا چاہتے ہیں تو اس کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چایئے تاکہ فلسطین کا مسئلہ حل ہو سکے جو نہ صرف مشرق وسطی کے امن کے لیئے خطرہ ہے بلکہ پوری دنیا کو بھی ایک دن آگ میں جھونک سکتا ہے۔
اسرائیل کے ایران پر اس تازہ حملے کا پس منظر بھی مسئلہ فلسطین کے ساتھ جڑا ہوا ہے کیونکہ ایران کے ایٹمی منصوبوں اور میزائل طاقت سے اسرائیل خوف زدہ ہے جس بنا پر وہ وقفے وقفے سے ایران پر حملے کرتا رہتا ہے۔ بلفرض، مسئلہ فلسطین دو ریاستی بنیادوں پر حل ہوتا ہے تو غزہ ایک ’’بفر سٹیٹ‘‘ کا درجہ حاصل کر لے گا، اور اس سے آئیندہ پوری دنیا کا امن بھی متاثر نہیں ہو گا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مشرق وسطی میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیئے مسلم دنیا بشمول پاکستان مسئلہ فلسطین کے ’’دو ریاستی حل‘‘ کی تجویز پر آمادگی ظاہر کریں کیونکہ جب تک مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہوتا دنیا بھر کا امن

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل کو فلسطین کا دو ریاستی امریکہ نے فلسطین کے کے ساتھ حملہ کر اس حملے سکتا ہے

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم