Jasarat News:
2026-07-24@01:51:42 GMT

اقوامِ متحدہ میں دو ریاستی حل کی قرارداد

اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے ایک قرارداد کی منظوری دے دی ہے۔ یہ قرارداد 142 ممالک کے ووٹوں سے منظور ہوئی۔ امریکا اور اسرائیل سمیت 10 ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 12 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔ واضح رہے کہ یہ قرارداد ’’نیویارک ڈیکلریشن‘‘ پر مبنی ہے جو فرانس اور سعودی عرب نے جولائی میں تیار کی تھی اور جسے عرب لیگ کی حمایت حاصل ہے۔ اس اعلامیے کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے دو ریاستی حل میں نئے سرے سے جان ڈالنا ہے لیکن اس میں فلسطینی تنظیم حماس شامل نہ ہو۔ یہ ووٹنگ عالمی رہنمائوں کی 22 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات سے قبل منعقد ہوئی ہے۔ قرارداد کی تمام خلیجی عرب ریاستوں نے حمایت کی۔ قرارداد کے منظور شدہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت ایک عارضی بین الاقوامی استحکام مشن کی تعیناتی کی حمایت کی گئی ہے۔ اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے امریکا کا کہنا تھا کہ اس سے سنجیدہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے، یہ غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ امریکی سفارت کار مورگن اورٹیگس نے جنرل اسمبلی میں کہا کہ یقین رکھیے، یہ قرارداد حماس کے لیے تحفہ ہے، امن کو فروغ دینے کے بجائے اس کانفرنس نے جنگ کو طول اور حماس کو حوصلہ دیا ہے۔ اسرائیل، جو طویل عرصے سے اقوامِ متحدہ پر الزام لگاتا آیا ہے کہ اس نے 7 اکتوبر کے حملوں پر حماس کا نام لے کر مذمت نہیں کی، اس نے بھی جنرل اسمبلی کے اعلامیے کو یکطرفہ قرار دے کر مسترد کر دیا اور ووٹ کو تماشا قرار دیا۔ قرارداد میں حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ کی حکومت چھوڑ دے، ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے، اور تمام یرغمالوںکو رہا کرے۔ واضح رہے کہ 22 ستمبر کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی 80 ویں تاسیس کے موقع پر جنرل اسمبلی میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہورہا ہے، جس کا مرکزی ایجنڈا اقوامِ متحدہ کی اسی سالہ تاریخ کا جائزہ لینا، ماضی کی کامیابیوں پر غور کرنا اور مستقبل کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی مرتب کرنا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس اجلاس کے موقع پر برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، بلجیم اور دیگر ممالک باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ ادھر نیتن یاہو نے قرارداد کی منظوری پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ’’کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی‘‘ اس اعلان کے ساتھ ہیں انہوں نے فلسطینی مغربی کنارے میں نئی متنازع آباد کاری کے توسیعی منصوبے پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد مغربی کنارے پر فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے متنازع توسیعی منصوبے کے تحت اسرائیلی آباد کاروں کے لیے 3400 نئے گھر بنائے جائیں گے، مقبوضہ بیت المقدس سے مغربی کنارے کا بیش تر حصہ منقطع کردیا جائے گا اور اس علاقے میں دیگر اسرائیلی آباد کاروں کی بستیوں کو ساتھ ملایا جائے گا۔ بادی النظر میں دو ریاستی حل کی قرارداد مسئلہ فلسطین کے باب میں ایک اہم پیش رفت محسوس ہو رہی ہے تاہم بنظر غائر دیکھا جائے تو جسے عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین پر پیش رفت خیال کیا جارہا ہے وہ اس کے سو ا کچھ نہیں کہ اقوامِ متحدہ کی سطح پر اسرائیل کو قانونی حیثیت دے دی جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اقوامِ عالم ایک ایسا فیصلہ کرتی جو عدل و انصاف اور بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ ہو تا، اس فیصلے میں مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مذمت کی جاتی مگر حق و انصاف کی راہ اپنانے اور اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کے بجائے سارا زور اس بات پر رہا کہ حماس غیر مسلح ہو جائے، اپنے ہتھیار حوالے کردے اور یرغمالیوں کو رہا کردے اور غزہ کی حکومت چھوڑ دے، سوال یہ ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کا جواز کیا ہے؟ یرغمالیوں کو کس بنیاد پر رہا کیا جائے؟ عزہ پر حماس کی حکومت ایک جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی، جسے تسلیم نہیں کیا گیا، حقائق، اصول اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر کے حماس کو بے دست و پا کرنے کی کوشش دراصل فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو مستحکم کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے اسے اقوامِ متحدہ اور مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل نامی شجرِ خبیثہ کا بیج برطانیہ نے بویا، اس کی نمو کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کا فریضہ اقوامِ متحدہ نے انجام دیا اور جس کی نگہداشت امریکا اور مغربی طاقتیں کر رہی ہیں، مغربی طاقتوں کی اسی بے جا حمایت اور سرپرستی نے اسرائیل کو معصوم فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا حوصلہ دیا ہے۔ اسرائیل کی پوری تاریخ اس امر کی حقیقت پر دال ہے کہ وہ کسی طور فلسطین کی سرزمین سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے پیش کیا جانے والے پارٹیشن پلان ہو یا کیمپ ڈیوڈ معاہدہ یا اوسلو معاہدہ، صہیونی قیادت اسرائیل کے قیام سے قبل ہی گریٹر اسرائیل کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھی ہے، اب تو خود نیتن یاہو بھی کھل کر اپنے عزائم کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ گریٹر اسرائیل کے ایک تاریخی اور روحانی مشن پر ہیں اور یہ کہ وہ گریٹر اسرائیل کے وژن سے خود کو منسلک محسوس کرتے ہیں، جس میں فلسطینی ریاست کے لیے مخصوص علاقے اور موجودہ اردن اور مصر کے ممکنہ حصے شامل ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کا وجود ہی بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے جبکہ قابض طاقت کے طور پر جو پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں اور جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ سب بھی غیر قانونی ہیں۔ یہ حقیقت کس سے مخفی ہے کہ 1917 میں برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے یہودی کمیونٹی کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ فلسطین میں یہودیوں کے وطن کے قیام میں ان کی مدد کی جائے گی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر یہودیوں کی نقل مکانی میں ان کی مدد کی گئی، دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر بسایا گیا، فلسطینیوں کی زمینیں جبراً ضبط کر کے انہیں یہودی آباد کاری کے حوالے کیا گیا۔ اقوام عالم کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دو ریاستی حل کسی طور فلسطین کے مسئلے کا حل نہیں، اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے اسرائیل کے قبضے کا خاتمہ ضروری ہے۔ دنیا اگر مسئلہ فلسطین واقعتا حل کرانا چاہتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے اور یہ کہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینیوں کو قبضے کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے، جس میں مسلح مزاحمت بھی شامل ہے۔ قرارداد کی منظوری سے یہ سمجھ لینا کہ یہ مسئلہ فلسطین کے حل کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے سراسر عاقبت نااندیشی ہے، آج اگر طاقت اور قبضے کو بطور دلیل تسلیم کرلیا گیا توکمزور اقوام کے پاس جینے کا حق نہیں رہ سکے کا اور ان غیر منصفانہ اقدامات اور فیصلوں کے نتیجے میں دنیا طواف الملوکی کا منظر پیش کرے گی اور خطے میں قیامِ امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسئلہ فلسطین بین الاقوامی دو ریاستی حل اور اسرائیل جنرل اسمبلی اسرائیل کے قرارداد کی متحدہ کی کے لیے کی گئی اور اس

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم