ریاستی ادارے سیلاب و بارش متاثرہ افراد کی بحالی یقینی بنائیں( صدرمملکت، وزیراعظم)
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے،ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں،زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنیکی ہدایت
آصف زرداری وشہباز شریف کا سیلاب اور حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس،متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرین کی ہرممکن مدد کی ہدایت کی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں فوری اور مثر انداز میں تیز کی جائیں تاکہ متاثرین کو بروقت امداد اور ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیلاب اور مختلف حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں سے قریبی رابطے میں رہنے، متاثرین کو ہر ممکن امداد فوری پہنچانے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت دی، انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور فرنٹیٔر ورکس آرگنائزیشن کو سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور شاہراہوں کی فوری بحالی کے لیے کام تیز کرنے کا بھی حکم دیا۔صدر و وزیراعظم دونوں نے ریاستی اداروں کو تاکید کی کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لا کر متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی کو یقینی بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔