ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر بارک اوباما کو غدار قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر بارک اوباما کو غدار قرار دے دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 23 July, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(شاہ خالد )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر بارک اوباما کو غدار قرار دے دیا۔2016 کے انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات پر صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انھیں غدار قرار دے دیا۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ اس سازش میں اوباما کو بالکل رنگے ہاتھوں پکڑا ہے، ان کا عمل غداری کے مترادف ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اوباما نے اپنی گینگ کے ساتھ مل کر الیکشن میں روسی مداخلت کا الزام لگایا تھا، اوباما کی گینگ میں جو بائیڈن، ہیلری کلنٹن اور ان کے دیگر ساتھی شامل ہیں جنھوں نے الیکشن چوری کیا۔
امریکی صدر نے سابق صدر بارک اوباما پر ’’غداری‘‘ کا الزام لگایا، اور بغیر ثبوت فراہم کیے کہا کہ اوباما اس گروپ کے سرخیل تھے جس نے انھیں روس کے ساتھ جھوٹے طور پر منسلک کیا اور 2016 کی ان کی صدارتی مہم کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ الیکشن میں مداخلت کے جھوٹے دعوے کرنے والوں کے خلاف ایکشن ہوگا، تاہم دوسری طرف سابق صدر اوباما نے صدر ٹرمپ کا 2016 کے الیکشن سے متعلق بیان مسترد کر دیا ہے۔
سابق صدر نے ردعمل میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دراصل جیفری ایپسٹین کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے بیان دے رہے ہیں۔اوباما کے ترجمان نے ٹرمپ کے دعوؤں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ عجیب و غریب الزامات مضحکہ خیز اور خلفشار کی ایک کمزور کوشش ہے۔‘‘یاد رہے کہ جنوری 2017 میں شائع ہونے والی امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کے ایک جائزے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا، کہ روس نے سوشل میڈیا کی غلط معلومات، ہیکنگ اور روسی بوٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کی مہم کو نقصان پہنچانے اور ٹرمپ کو تقویت دینے کی کوشش کی۔ تاہم جائزے میں کہا گیا تھا کہ اس کوشش کا اثر محدود تھا، جب کہ ایسا کوئی ثبوت بھی نہیں ملا جس سے پتا چلتا ہو کہ ماسکو کی کوششوں نے ووٹنگ کے نتائج کو حقیقتاً تبدیل کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپختونخوا، گلگت بلتستان میں سیلابی صورتحال، پنجاب میں طوفانی بارشیں، نالہ لئی میں طغیانی پختونخوا، گلگت بلتستان میں سیلابی صورتحال، پنجاب میں طوفانی بارشیں، نالہ لئی میں طغیانی سلامتی کونسل میں عالمی امن کیلیے پاکستان کی قرارداد متفقہ طور پر منظور ضرورت پڑی تو واشنگٹن دوبارہ حملہ کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو پھر دھمکی بھارت کا پے در پے حادثات کے بعد مِگ 21طیاروں کو ہمیشہ کیلئے غیرفعال کرنے کا فیصلہ نومئی کیس: اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سمیت 70 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا نومنتخب آسٹریلوی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی شدید مذمتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غدار قرار دے دیا صدر بارک اوباما ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کرتے ہوئے اوباما کو کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔