Daily Mumtaz:
2026-06-03@06:48:06 GMT

چین کی ایران کی خودمختاری پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

چین کی ایران کی خودمختاری پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

بیجنگ:چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔اتوار کے روزعباس عراقچی نے خطے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ اسرائیل نے حال ہی میں ایران پر شدید حملے کیے، جس میں ایرانی فوجی اہلکاروں اور شہریوں کو جانی نقصان پہنچا، خاص طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی فوجی کارروائی انتہائی خطرناک ہے اور پورے خطے کو مکمل جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔ امید ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل سے فوجی کارروائی روکنے کا متفقہ مطالبہ کرے گی۔انہوں نے ایرانی موقف کی مستقل تائید اور حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ چین خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں مزید اہم کردار ادا کرے گا۔وانگ ای نے کہا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد، چین نے فوراً اپنا موقف واضح کیا ہے۔ چین اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی واضح مذمت کرتا ہے۔ چین ایران کے اعلیٰ عسکری اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے وحشیانہ حملوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور ایران کی اپنی خودمختاری، قانونی حقوق اور عوامی سلامتی کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ چین ان ممالک سے اپیل کرتا ہے جو اسرائیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں وہ امن کی بحالی کے لیے موثر اقدامات کریں۔اسی روز ، وانگ ای نے اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ موجودہ صورت حال کے بارے میں اسرائیلی موقف اور نقطہ نظر جاننے کے بعد، وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ سے یہ موقف رکھتا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی تنازع کا حل بات چیت اور مشاورت کے ذریعے کیا جانا چاہیے، اور طاقت یا پابندیوں کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔ اس تناظر میں، چین اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر فوجی حملے کی واضح مخالفت کرتا ہے، خاص طور پر جب بین الاقوامی برادری اب بھی ایران کے جوہری مسئلے کا سیاسی حل تلاش کر رہی ہو، یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔اس وقت فوری طور پر ضروری اقدامات لازم ہیں تاکہ تصادم میں اضافے سے بچا جا سکے، خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے، اور مسئلے کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کی طرف واپس آیا جا سکے، یہ بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے بھی ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بین الاقوامی وانگ ای نے ایران کی کرتا ہے

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت