آبادی پر اسرائیلی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایرانی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین اور واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اسماعیل بقائی نے لکھا کہ ’اسرائیلی حکومت نے ایران کے خلاف کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے‘۔
A grieving teacher holds photos of her young students killed by Israeli airstrikes.
This is not 'preemptive strike'; it is war crime committed through a blatant aggression. pic.twitter.com/JfKCVlXRjy
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) June 14, 2025
انہوں نے کہا کہ ’منظم طریقے سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیل نے رہائشی علاقوں، شہری انفرااسٹرکچر اور ان جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ہیں‘۔
ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ’یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح اور سنگین خلاف ورزی ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں:حوثیوں کا ایرانی تعاون سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملہ
اسماعیل بقائی کے مطابق ’ایک انتہائی ہولناک حملے میں اسرائیلی میزائل نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 60 بے گناہ افراد شہید ہوئے، جن میں 29 بچے شامل تھے‘۔
یاد رہے کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات اسرائیل نے تہران سمیت دیگر ایرانی شہروں پر ایک سلسلہ وار حملے شروع کیے۔ ان حملوں میں رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو کہ کشیدگی میں بڑے اضافے کی علامت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیلی حملے اسماعیل بقائی ایران ایرانی وزرات خارجہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی حملے اسماعیل بقائی ایران ایرانی وزرات خارجہ
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔