پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 جون ۔2025 )وزیراعلی علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ عمران خان کا پیغام ہے بجٹ پیش ہوگا لیکن منظوری میری طرف سے ہوگی اپنے ایک بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پارٹی کے بانی چیئرمین کے تمام ورکرز اور سپورٹرز کو سلام پیش کرتا ہوں اور پیغام دیتا ہوں، پاکستان ایمان اتحاد اور نظم وضبط پر معروض وجود میں آیا، پاکستان تحریک انصاف ایمان اتحاد، نظم و ضبط اور خوداری پر بنائی گئی.

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ بات یاد رکھیں کہ عمران خان نے ہمیشہ اتحاد اور اتفاق کی بات کی ہے، پارٹی کے اندر اور باہر ایسے لوگ ہیں جو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں،ان کے گمراہ کرنے کا مقصد آپ کو فوکس سے ہٹانا ہوتا ہے وزیراعلی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ کہاوت ہے کہ اگر تم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو ان کے ساتھ شامل ہو جا اور اگر نہیں ہارا سکتے تو ان کو کنفیوز کرو، عمران خان کا پیغام آگیا ہے کہ بجٹ پیش ہوگا لیکن منظوری میری طرف سے ہوگی.

انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے عمران خان کی منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنے کی کوشش کی، اس طرح دیگر حکومتی معاملات پر غلط بیانی اور گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، یادرکھیں ہم سب ایک ہیں، ہمارا لیڈر ایک ہے، ہماری نیت بھی ایک ہی ہونی چاہیے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ جب تک ہماری نیت ایک نہ ہو مقصد حاصل نہیں ہوسکتا، سب مل کر اتفاق اور اتحاد پیدا کریں اور ان کا مقابلہ کریں، یہ لوگ سب کے سامنے واضح ہوچکے ہیں ان کو پہچان کر اب فکس کریں.

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضم شدہ اضلاع کے لیے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی ) کے تحت مختص کردہ 350 ارب روپے میں سے باقی ماندہ 267 ارب روپے فوری طور پر خیبرپختونخوا کو منتقل کرے اپنے بیان میں انہوں نے وفاق پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے جس کے باعث قبائلی اضلاع کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے.

ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ رواں مالی سال 25-2024 کے دوران وفاق نے ضم اضلاع کے لیے 350 ارب روپے مختص کیے تھے تاہم گزشتہ 10 ماہ میں صرف 83 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں جبکہ 267 ارب روپے تاحال واجب الادا ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے لیکن وفاق کی غیر سنجیدگی اس نازک قومی معاملے کو خطرے میں ڈال رہی ہے.

ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ انضمام کا اصل مقصد قبائلی علاقوں کو قومی ترقی کا حصہ بنانا تھا مگر وفاق کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی سے یہ مقصد شدید خطرے میں پڑ گیا ہے انہوں نے خبردار کیا کہ ضم شدہ اضلاع کے فنڈز روکنا درحقیقت دہشت گردی کو فروغ دینے کے مترادف ہے، جب تک ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع نہیں ہوتے تب تک دہشت گردی کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ڈاکٹر سیف نے زور دیا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ کے تحت مختص تمام فنڈز فوری طور پر خیبرپختونخوا حکومت کو منتقل کرے تاکہ قبائلی عوام کو بنیادی سہولیات، روزگار، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات فراہم کی جا سکیں. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سیف انہوں نے ارب روپے علی امین نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف