ایران کا ایک اور اسرائیلی ایف 35 جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ، مجموعی تعداد 5 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایران نے اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایک اور اسرائیلی ایف 35 جنگی طیارہ تبریز کے قریب مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ایرانی میزائلوں کو روکنے والے دفاعی میزائل ختم ہونے کے قریب، اسرائیلی پریشان
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے تبریز کے فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے ایک اسرائیلی اسٹیلتھ جنگی طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور تباہ کردیا۔
اب حالیہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے مار گرائے گئے ایف 35 طیاروں کی مجموعی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ ایران پہلے ہی 4 اسرائیلی ایف 35 طیارے مار گرانے کا اعلان کرچکا ہے، جس کے بعد ان دعوؤں کے اثرات امریکی جنگی طیارہ ساز کمپنی کی اسٹاک مارکیٹ پر بھی نظر آئے، اور اس کے شیئرز میں ایک ہی دن میں قریباً 4 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ادھر اسرائیلی فوج نے ایران کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر مصدقہ اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں ایران نے ایک اسرائیلی ڈرون طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے جو سرحدی حدود کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ اس واقعے کی تصدیق ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ’بنکر بسٹر بم‘ کن صلاحیتوں کے حامل ہیں؟
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فضائی جھڑپوں کے پیشِ نظر خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر دفاعی صنعت اور اسٹاک مارکیٹس بھی ان واقعات سے متاثر ہو رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل ایران جنگ اسرائیلی ڈرون اسرائیلی فوج ایرانی سپریم لیڈر ایف 35 جہاز دعویٰ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران جنگ اسرائیلی ڈرون اسرائیلی فوج ایرانی سپریم لیڈر ایف 35 جہاز دعوی وی نیوز مار گرانے کا
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔