اسرائیل کی بے بسی بڑھنے لگی، ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے صلاحیتیں ناکافی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اگر امریکا نے ایران پر اسرائیلی حملے میں براہ راست ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو امکان ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسے طاقتور بم فراہم کرے گا جو ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیب فرود کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنکر بسٹر بم جنہیں زمین کے اندر گہرائی میں دھماکے کے لیے تیار کیا گیا ہے استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر امریکی فضائیہ کے پاس موجودGBU-57A/B Massive Ordnance Penetrator نامی بم جو قریباً 13,600 کلوگرام وزنی ہے اور 60 میٹر تک زمین میں گھس کر پھٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بم صرف B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے سے فائر کیے جا سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ صرف امریکا کے پاس اس حملے کی صلاحیت موجود ہے، نہ کہ اسرائیل کے پاس۔
فرود ایٹمی مرکز کیا ہے؟فرود، ایران کا دوسرا سب سے اہم یورینیم افزودگی مرکز ہے جو قم شہر کے قریب پہاڑ کے اندر بنایا گیا ہے۔ یہ تنصیب 2006 میں زیر تعمیر آئی اور 2009 میں فعال ہوئی۔ اسے 80 میٹر موٹی چٹانوں کی تہوں کے نیچے تعمیر کیا گیا ہے، اور ایرانی و روسی میزائل دفاعی نظاموں سے محفوظ بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’کوئی ثبوت نہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے‘، بین الاقوامی ایٹمی توانائی کی ایجنسی
اب تک اسرائیل کی جانب سے فرود پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ایران کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ کے خاتمے کا حصہ ہے، اور فرود کا خاتمہ ان اہداف میں شامل ہے۔
امریکا کے شامل ہونے کے اثراتماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے اسرائیل کو براہ راست فوجی مدد فراہم کی، تو اس سے ایران کے ساتھ صدر ٹرمپ کی مجوزہ ایٹمی مذاکرات کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچے گا۔
امریکا کے اسٹریٹیجک تجزیہ کار مائیکل شو بریج کے مطابق، اسرائیل کے پاس ایسی گہری سرنگوں میں واقع تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اسرائیل کے پاس صرف 2,270 کلوگرام وزنی بم موجود ہیں، جبکہ فرود جیسے ہدف کے لیے 13,600 کلوگرام وزنی بم درکار ہے۔
ایران کا ردعمل اور عالمی خطراتایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ایران اب اپنے حساس جوہری مواد اور تنصیبات کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کو مکمل معلومات فراہم نہیں کرے گا۔ ایرانی پارلیمان میں ایک مسودہ قانون بھی زیر غور ہے جس کے تحت ایران عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (NPT) سے نکل سکتا ہے، بالکل ویسا ہی جیسا شمالی کوریا نے کیا تھا۔
مزید پڑھیں: امریکا جنگ میں شریک ہوا تو ایران و اتحادیوں کا جواب کیسا ہوگا؟
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، اگر ایران نے آئی اے ای اے سے مزید تعاون روک دیا تو خدشہ ہے کہ ایران کسی خفیہ افزودگی مرکز پر کام کر رہا ہو یا کرسکتا ہے۔
ٹرمپ کا سخت مؤقفصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے اوپر اب ہماری فضائی برتری مکمل ہے۔ ہم نہ تو شہریوں پر میزائل برداشت کریں گے اور نہ اپنے فوجیوں پر، ہماری صبر کی حد ختم ہو رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی حملے امریکا ایران فرود ایٹمی مرکز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملے امریکا ایران فرود ایٹمی مرکز اسرائیل کے کی صلاحیت کہ ایران ایران کے کے لیے گیا ہے کے پاس
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔