Express News:
2026-07-24@06:07:58 GMT

بدامنی کی انتہا

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

قومی اسمبلی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے اعتراف کیا ہے کہ سندھ میں امن و امان کا مسئلہ ہے، اسٹریٹ کرائمز بڑھنے سے لوگ پریشان ہیں جس پر کام کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔

سندھ بچاؤ کمیٹی اور جی ڈی اے کے سیکریٹری صفدر عباسی اور سیکریٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سندھ میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہو چکی ہے اور سندھ بھر میں قبائلی خونریزی ہو رہی ہے اور پولیس کو سیاسی بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث سندھ میں ہر طرف خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ دو بیانات سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور حکومت مخالف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کے ہیں جب کہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سمیت ایم کیو ایم اور جے یو آئی سندھ کے اہم رہنما بھی سندھ میں بدامنی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں جب کہ کراچی کی مختلف چھوٹی جماعتوں اور تنظیموں اور پی ٹی آئی کے صوبائی عہدیدار بھی سندھ میں امن و امان کی صورت حال، اغوا اور دیگر بڑھتے جرائم کو تشویش ناک قرار دیتے آ رہے ہیں مگر سندھ حکومت کے ذمے داروں کو سندھ میں بدامنی نظر نہیں آ رہی اور حکمران اور پی پی رہنما ہر معاملے پر بیان بازی کرتے ہیں مگر پی پی رہنما خورشید شاہ جن کا تعلق سکھر سے ہے کے علاوہ کسی کو سندھ میں تشویش ناک بدامنی پر لب کشائی کی توفیق نہیں ہوتی اور وہ تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں یا سندھ میں امن و امان کی صورت حال کو مسئلہ ہی نہیں سمجھتے اور نہ حکمرانوں کی اس اہم مسئلے پر توجہ ہے بلکہ یہ سب سندھ میں امن و امان کی حالت کو اپوزیشن کا گمراہ کن پروپیگنڈا سمجھتے ہیں۔

سندھ میں حکمران پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیاں بدامنی روکنے اور امن کی بحالی کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں جس پر اب پی پی میں سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں جو ان کی تعمیری سوچ کی عکاس ہیں۔ سندھ کی ایسی متعدد شاہراہیں ہیں جہاں رات کے اندھیرے میں سفر ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ ملک کے دیگر صوبوں کے علاوہ اندرون سندھ سے بھی بڑی تعداد میں بسیں اور مال بردار ہزاروں کی تعداد میں اندرون سندھ سے گزر کر کراچی آتے اور کراچی سے ملک بھر میں جاتے ہیں۔ گزشتہ ماہ اندرون سندھ پنجاب سے کراچی آنے والے قربانی کے جانوروں کے ٹرکوں کو روکا گیا اور ان سے ہزاروں روپے بھتہ وصول کرکے انھیں جانے کا راستہ دیا گیا جس کی وجہ سے منڈی میں پہلے جانور کم تھا جو جلد فروخت ہو گیا اور عیدالاضحی کے قریب جانور کراچی لائے گئے جس سے تاجروں نے جانور مہنگے کر دیے اور منہ مانگے داموں قربانی کے جانور فروخت کیے اور وجوہات میں راستے میں دیا جانے والا بھتہ جو پولیس نے بھی وصول کیا بتایا۔ ملک بھر سے مال برداری اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں کراچی آمد ٹرینوں سے زیادہ ٹرکوں، ٹرالروں اور مسافر بسوں کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور وہ بدامنی کے حالات میں خود کو غیر محفوظ سمجھ کر سفرکرتے ہیں۔

جن اضلاع میں سندھ کے کچے کے علاقے ہیں وہاں چھپے ڈاکوؤں کے خلاف سندھ پولیس اپنا آپریشن بھی جاری رکھے ہوئے ہے جس میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی کہ سندھ کی شاہراؤں کو محفوظ قرار دیا جا سکے۔پی پی رہنما کے قریب بدامنی اور اسٹریٹ کرائم کے باعث لوگ پریشان ہیں جب کہ جی ڈی اے کے رہنماؤں کے مطابق سندھ میں قبائل کے درمیان جاری خونریزی سے مسلسل ہلاکتیں اور تصادم نہیں رک پا رہے ہیں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں سندھ کی پولیس اس لیے نہیں روک پائی کہ وہ سیاسی بنا دی گئی اور وزیروں، ارکان اسمبلی اور عہدیداروں نے اپنے من پسند افسر تعینات کرا رکھے ہیں جن کے ذریعے مخالفین پر مقدمات بنوائے جاتے ہیں۔

سندھ کے زیادہ تر قبائلی رہنما، مختلف قومیتوں کے سردار، بااثر اور بڑے وڈیرے پیپلز پارٹی میں شامل ہیں جس کے باوجود قبائلی جھگڑے ختم نہیں ہو رہے اور بعض بااثر افراد قبائلی جھگڑے ختم کرانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں مگر آئے دن کسی نہ کسی علاقے میں پھر جھگڑوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور جانی نقصان معمول بن چکا ہے۔سندھ حکومت نہ کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کر سکی اور نہ قبائلی جھگڑے روک پائی جب کہ کراچی کے علاوہ سندھ کے اندرونی علاقوں میں جرائم اور اسٹریٹ کرائم پر بھی قابو نہیں پایا جا رہا جس سے سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں جب کہ کراچی تو لگتا ہے کہ سندھ حکومت کے کنٹرول سے نکل چکا اور کراچی پولیس مکمل ناکام ہو چکی جس پر شہریوں نے خود ڈاکوؤں کو پکڑنا اور ان پر تشدد شروع کر دیا ہے اور وہ خود ہی مایوس ہو کر قانون کو ہاتھ میں لینے لگے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ میں امن و امان کی سندھ حکومت ہیں جب کہ کے علاوہ کہ سندھ سندھ کی رہے ہیں سندھ کے ہے اور

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن