وفاقی محتسب کراچی کی کھلی کچہری: کورنگی کے مکینوں نےاداروں کیخلاف شکایات کے انبار لگادیئے
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) وفاقی محتسب کی ہدایت پر سینئر ایڈوائزر (انچارج) ریجنل آفس کراچی سید انوار حیدر، ایڈوائزر سید ذاکر حسین ، گریوینسز کمشنر مولا بخش شیخ نے بدھ کے روز ڈسٹرکٹ کورنگی کراچی میں کھلی عوامی کچہری (کھلی عوامی میٹنگ) کا انعقاد کیا۔ عوامی اجتماع میں وفاقی محتسب کے افسران، ڈپٹی کمشنر مسعود بھٹو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور مختلف وفاقی اور صوبائی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔
اس موقع پر ایس ایس جی سی، نادرا، لینڈ ڈیپارٹمنٹ، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، کے الیکٹرک، لوکل گورنمنٹ اداروں اور دیگر اداروں کے خلاف متعدد شکایات درج کروائی گئیں۔ شکایت کنندگان کا تعلق لانڈھی ٹاؤن، کورنگی ٹاؤن، شاہ فیصل ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں سے تھا، انہوں نے اراضی، ایس ایس جی سی اور کے الیکٹرک کے بلاجواز بلوں، بھاری بلوں کی ادائیگی کے باوجود صارفین کو قدرتی گیس، پانی اور بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ، تجاوزات اور دیگر شہری مسائل کے مسائل اٹھائے۔
سینئر ایڈوائزر سید انوار حیدر نے اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران کو عوامی شکایات کا فوری ازالہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگر سرکاری ملازمین عوامی شکایات کے ازالے میں ناکام رہے تو انہیں جوابدہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے ڈسٹرکٹ کورنگی کے مکینوں کے جائز مسائل پر فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کو وفاقی حکومت کے 180 سے زائد محکموں اور اداروں سے متعلق شہریوں کی شکایات سننے اور ان کے ازالے کے لیے تجاویز دینے کا پابند بنایا گیا ہے جبکہ صوبائی محکموں اور اداروں سے متعلق شکایات کو متعلقہ اداروں تک پہنچایا جاتا ہے۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ وفاقی محتسب 60 دنوں میں وفاقی اداروں کے خلاف عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے موثر انداز میں کام کرتا ہے جبکہ موثر فالو اپ کے ذریعے فیصلوں پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ محتسب کے پاس غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا قانونی اختیار ہے، انہوں نے عوام کو آگاہ کیا اور حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس پلیٹ فارم کو وفاقی اداروں کے خلاف اپنی منصفانہ اور منصفانہ شکایات کے لیے استعمال کریں۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی محتسب کے ریجنل آفس کراچی کو گزشتہ سالوں میں 30 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں جن کا جائزہ لیا گیا اور 60 دنوں کے مقررہ وقت میں حل کیا گیا۔
اس موقع پر مسٹر مسعود بھٹو ڈپٹی کمشنر کورنگی نے عوامی مسائل کے حل کے لیے ایسے اجتماعات کا خیرمقدم کیا اور مستقبل میں بھی ایسی مشقوں کا اہتمام کرنے کا عہد کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی محتسب شکایات کے انہوں نے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔