اسرائیل-ایران کشیدگی کے دوران اسرائیل کے شہریوں کو ایرانی میزائل حملوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں پناہ لینے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ تاہم اسرائیل میں بسنے والے فلسطینی شہری، جو کل آبادی کا تقریباً 21 فیصد ہے، اکثر ان حفاظتی اقدامات سے محروم رہ جاتے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عکا کے قریب رہنے والی خاتون سمر الرشد کو میزائل حملوں کے دوران فلسطینی ہونے پر ایک یہودی شہری کی جانب سے پناہ گاہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ آپ کے لیے نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایرانی میزائلوں کو روکنے والے دفاعی میزائل ختم ہونے کے قریب، اسرائیلی پریشان

رپورٹ کے مطابق فلسطینی شہری اسرائیل میں طویل عرصے سے امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں رہائش، تعلیم، روزگار اور خدمات تک رسائی میں مشکلات شامل ہے۔ 2018 کے ‘نیشنل اسٹیٹ لا’ جیسے قوانین نے ان امتیازات کو قانونی شکل دی ہے جس کی رو سے اسرائیل کو یہودیوں کی قومی ریاست قرار دیا گیا، اس کے بعد اسرائیلی فلسطینیوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران یہ تفریق مزید بڑھ جاتی ہے، مثلاً فلسطینی علاقوں کو کم فنڈز ملتے ہیں، کم محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جاتی ہیں، اور امتیازی پولیسنگ اور پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور وہ حکام کے مسلسل شکوک کی زد میں رہتے ہیں۔ اسرائیلی ریاست کے امتیازی سلوک کی وجہ سے فلسطینی کمیونٹیز کے پاس مناسب حفاظتی سہولیات کی کمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حزب اللہ کے حملے تیز، تل ابیب ایئرپورٹ بند، لاکھوں اسرائیلی پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور

اسرائیل میں بسنے والے 70 فیصد فلسطینیوں کے گھروں کے ساتھ محفوظ پناہ گاہوں کا فقدان ہے لیکن دوسری طرف اسرائیل کی یہودی آبادی میں یہی تعداد صرف 25 فیصد ہے۔ الجزیرہ کے مطابق کئی فلسطینی شہریوں کے لیے اس تفریق نے ان کے تنہائی کے احساس اور خوف کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین فلسطینی شہری پناہ گاہوں کے دوران کے لیے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت