آئی ایم ایف کا منظور نظر بجٹ پیش کیا گیا، علی موسیٰ گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما سید علی موسیٰ گیلانی نے کہا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کا منظور نظر بجٹ پیش کرتے ہیں ہم 26 ویں آئی ایم ایف پروگرام میں داخل ہو چکے ہیں ہمارا بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ دو لاکھ سے زائد قرض میں ڈوبا ہوتا ہے ‘ بانی پی ٹی آئی نے ہر چیز پر ٹویٹ کی ہے بانی پی ٹی آئی نے ایک ٹویٹ بھی نیتن یاہو کے خلاف نہیں کی انہوں نے اسرائیل کی مذمت نہیں کی ایران کو اسرائیل پر بھرپور حملہ کرنا ہو گا۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ بجٹ میں کوئی بھی پالیسی میکنگ بجٹ نہیں ہے ، کراچی کو کمرشل کیپیٹل ڈکلیئر کیا جائیدو کیپیٹل ہوسکتے ہیں پی آئی ڈی سی ایل تو کسی کی ضد لگ رہی ہے ہمیں ماموں نہ بنائیں اگر پی ڈبلیو ڈی سے کوئی ذاتی جھگڑا ہے تو اس کو علیحدہ رکھیں یہ بتائیں مہنگائی کیسے کم ہوگی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔