چین اور اٹلی کے درمیان تعلقات کے قیام کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر عوامی تبادلے کی سرگرمیاں کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 19 June, 2025 سب نیوز

بیجنگ :چین اور اٹلی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55 ویں سالگرہ کی مناسبت سے چائنا میڈیا گروپ کے زیراہتمام “بیجنگ سے روم تک” کی تھیم پر ثقافتی تبادلہ اور فنون لطیفہ کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ سی پی سی مرکزی کمیٹی کے شعبہ تشہیر کے نائب سربراہ اور چائنا میڈیا گروپ کے صدر شین ہائی شیونگ اور اٹلی کے چین میں سفیر انبولسو سمیت دیگر افراد نے مشترکہ طور پر نمائش کا افتتاح کیا۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے صدر باخ اور 2026 کے میلان سرمائی اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے صدر مارلاگو نے تقریب کی کامیابی پر مبارکباد دی۔بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے صدر باخ نے اپنے پیغام میں کہا کہ چائنا میڈیا گروپ ہمیشہ سے اولمپک کھیلوں کا ایک قیمتی اور اہم ساتھی رہا ہے، جس نے کروڑوں چینی لوگوں کو اولمپک کی کشش سے متعارف کرایا ہے۔

اس نمائش میں چین اور اٹلی کی بے شمار ثقافتی ورثوں کو یکجا کیا گیا ہے، اور یہ دونوں ممالک کی تاریخی تہذیب و فنون کی کامیابیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کا مقصد مختلف تہذیبوں کے درمیان تعامل اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، تاکہ مختلف ممالک کے لوگوں کے درمیان محبت اور تعلق بڑھ سکے۔ 2026 کے میلان سرمائی اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے صدر مارلاگو نے اپنے پیغام میں کہا کہ چائنا میڈیا گروپ متاثر کن کہانیوں، مستقبل پر مبنی نقطہ نظر ، اور موثر ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے عالمی ناظرین تک اولمپک اقدار منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراو آئی سی کا ہنگامی اجلاس 21جون کو طلب، اسرائیلی جارحیت ایجنڈے میں شامل ہانگ کانگ ایس اے آر کی معاشی کامیابیاں ایک ملک، دو نظام کے فروغ کی تصدیق ہے ، چین چینی صدر کا دورہ  وسطی ایشیا ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دیتا ہے، چینی وزیر خا رجہ امریکہ پر عوامی اعتماد کی کمی یکطرفہ بالا دستی کے غروب ہوتے سورج کی نشاندہی ہے، عالمی میڈیا آئندہ بجٹ میں نان فائلروں پر جائیداد اور گاڑی کی خریداری پر پابندیاں لگانے کی تجویز کیش لیس اکانومی اور معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن کیلئے اعلی سطحی کمیٹی قائم چین وسطی ایشیا روح کی روشنی میں تعاون کا نیا باب کھل گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور اٹلی کے کے درمیان

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم