آ ستا نہ :چینی  صدر شی جن پھنگ کے دوسرے چین وسطی ایشیا سربراہ اجلاس کے دورے کے اختتام پر چینی  وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ دوسرے چین وسطی ایشیا سربراہ  اجلاس  میں صدر شی کی شرکت رواں سال وسطی ایشیا میں چین کی سب سے اہم سفارتی پیش رفت ہے۔  صدر شی جن پھنگ نے 10 سے زائد کثیر الجہتی اور دوطرفہ سرگرمیوں میں شرکت کی اور  پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ تعاون کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا اور سوسے زائد تعاون کے نتائج حاصل کیے، جن کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ ای  نے کہا کہ اس سربراہی اجلاس کی سب سے نمایاں بات صدر شی جن پھنگ کی جانب سے “چین وسطی ایشیا اسپرٹ” کا اعلان تھی۔  وسطی ایشیا کے سربراہان مملکت نے متفقہ طور پر اس جذبے کے مطابق  چین وسطی ایشیا میکانزم کی مزید  ترقی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ چھ ممالک کے سربراہان مملکت نے مشترکہ طور پر آستانہ اعلامیے پر دستخط کیے جو اس سربراہ اجلاس میں طے پانے والے اہم سیاسی اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ وسطی ایشیا کے ممالک ایک چین کے اصول پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان چین  کا اٹوٹ حصہ ہے۔ تمام فریقین ” دہشت گردی، انتہاپسندی,علیحدگی پسندی” اور سرحد پار منظم جرائم پر مشترکہ طور پر کاری ضرب لگانےاور سلامتی کے خطرات سے  نمٹنے کے لئے پرعزم ہیں۔ وانگ ای کا کہنا تھا کہ  اس سربراہ اجلاس کا سب سے منفرد موضوع چھ ممالک کے سربراہان مملکت کی جانب سے  مشترکہ  طور پر 2025 تا 2026 کو “چین وسطی ایشیا تعاون کی اعلی معیار کی ترقی کے سال” کا اعلان تھا۔ صدر شی جن پھنگ اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان مملکت نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے اعلیٰ معیار کےایکشن پلان پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔  صدر شی جن پھنگ نے چین وسطی ایشیا تعاون کے فریم ورک کے تحت غربت میں کمی، تعلیمی تبادلے اور صحرا زدگی کی روک تھام اور کنٹرول میں تعاون کے تین بڑے  مراکز کے قیام اور اگلے دو سالوں میں وسطی ایشیائی ممالک کو 3،000 تربیتی مواقع  کی فراہمی کا اعلان کیا ۔ صدر شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ترقیاتی تجربات اور جدید ترین تکنیکی کامیابیوں کا اشتراک کرنے کے لئے تیار ہے۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای  نے کہا کہ اس سربراہ اجلاس کا سب سے اہم اقدام چھ ممالک کے سربراہان مملکت کی جانب سے “مستقل خوشگوار ہمسائگی، دوستی اور تعاون کے معاہدے” پر دستخط کرنا تھا جو چھ ممالک کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ سربراہ اجلاس کے دوران چین اور وسطی ایشیائی ممالک نے مقامی تعاون، افرادی آمدو رفت ، تعلیمی تبادلوں،ثقافت اور سیاحت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے نئے ثمرات کا سلسلہ طے پایا۔ چینی صدر شی جن پھنگ کے دورہ وسطی ایشیا نے چین وسطی ایشیا  میکانزم کی ترقی کی قیادت کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک میں  ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دیا ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وسطی ایشیائی ممالک چین وسطی ایشیا صدر شی جن پھنگ سربراہ اجلاس اس سربراہ تعاون کے وانگ ای

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی