ایران اسرائیل جنگ میں امریکی مداخلت عالمی جنگ کا باعث بنے گی: لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جماعتِ اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں امریکہ کی براہ راست مداخلت دنیا کو ایک اور عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں جماعتِ اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کسی ایٹمی ہتھیار کے خطرے کے پیش نظر نہیں، بلکہ اصل ہدف ایک اسلامی حکومت کا خاتمہ ہے، امریکہ کی قیادت دنیا کو یک طرفہ فیصلوں کے ذریعے غلام بنانے پر تُلی ہوئی ہے، لیکن صدر ٹرمپ کی خود ساختہ بادشاہی زیادہ دیر نہیں چلے گی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلم دنیا کو اس نازک گھڑی میں عسکری، سیاسی، معاشی اور تکنیکی میدانوں میں مکمل اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ورنہ نقصان پوری امت کو اٹھانا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو جنگ کی آگ میں دھکیلا گیا تو اس کے بعد پاکستان کو بھی اسی تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو اب یہ احساس ہو جانا چاہیے کہ دنیا کو جنگ نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے حکومتِ پاکستان کو مشورہ دیا کہ اندرونی انتشار اور بحرانوں کا خاتمہ فوری قومی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ بیرونی خطرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دنیا کو
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔