data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای پر ممکنہ حملے کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا سیاسی حل نکالنے پر زور دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق  سینٹ پیٹرز برگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے موقع پر بین الاقوامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے واضح کیا کہ وہ خامنہ ای پر حملے سے متعلق سوال پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی عوام اپنے سیاسی نظام کے پیچھے متحد ہے،ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران میں تمام تر اندرونی سیاسی پیچیدگیوں کے باوجود عوام اپنے ملک کی قیادت کے گرد متحد ہے۔

خیال رہےکہ روسی صدر حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں، لیکن ان کی کوششوں کو امریکا سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے مسترد کیا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ روس اور ایران کے قریبی تعلقات ہیں۔

پیوٹن نے کہا کہ روس نے تاحال ایران کو کوئی ہتھیار فراہم نہیں کیے، اگرچہ رواں سال جنوری میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اسٹریٹیجک شراکت داری پر دستخط ہوئے تھے، روس، ایران کے سول نیوکلیئر پروگرام میں معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام زیرزمین تنصیبات میں بدستور جاری ہے،یہ زیر زمین فیکٹریاں موجود ہیں، ان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ایران کے جنوبی شہر بوشہر میں قائم روسی تعمیر کردہ جوہری پاور پلانٹ میں 200 سے زائد روسی ماہرین کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے رواں ہفتے کہا تھا کہ جاری تنازع ایران میں حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے، اسرائیلی حملوں میں اب تک ایران میں 585 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 239 عام شہری شامل ہیں، یہ اعدادوشمار امریکا میں قائم ایک ایرانی انسانی حقوق تنظیم نے جاری کیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایرانی رہنما خامنہ ای کے مقام سے آگاہ ہے، فی الحال کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے، اگرچہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر حملے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیوٹن نے خامنہ ای

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار