عرب سائبر ماہرین پر مشتمل "سائبر سپورٹ فرنٹ" کا صیہونی ریاست کیخلاف اعلان جنگ
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
فرنٹ نے اعلان کیا ہے کہ غاصب ریژیم کو مکمل طور پر گھیرنے اور اس کی زندگی کی اہم شریانوں کو کاٹنے کے منصوبے کے تحت، نیز امت اسلامیہ کی حمایت میں، صیہونیوں کے خلاف سائبر محاصرہ شروع کیا جا رہا ہے۔ لہذا،صیہونی ریژیم سے وابستہ تمام اہم انفراسٹرکچر سائبر سپورٹ فرنٹ کے جائز ہدف ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ "سائبر سپورٹ فرنٹ" کے نام سے ایک گروپ نے صیہونیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر سائبر آپریشنز کے مقصد کے ساتھ اپنی موجودگی کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، "الجبهة الإسناد السیبرانیة" (سائبر سپورٹ فرنٹ)، جو مقاومتی فرنٹ سے وابستہ ہے اور عرب خطے کے کئی ممالک کے سائبر ماہرین پر مشتمل ہے، نے اپنے قیام کے اعلان میں، جو اس کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہوا ہے، لکھا ہے: "مبارک آپریشن طوفان الاقصیٰ کے تناظر میں اور مقاومت فرنٹ کی حمایت کے لیے، صیہونی ریژیم کے خلاف ایک نیا محاذ کھولا گیا ہے۔" اس فرنٹ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ "غاصب ریژیم کو مکمل طور پر گھیرنے اور اس کی زندگی کی اہم شریانوں کو کاٹنے کے منصوبے کے تحت، نیز امت اسلامیہ کی حمایت میں، صیہونیوں کے خلاف سائبر محاصرہ شروع کیا جا رہا ہے۔ لہذا،صیہونی ریژیم سے وابستہ تمام اہم انفراسٹرکچر سائبر سپورٹ فرنٹ کے جائز ہدف ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سائبر سپورٹ فرنٹ کے خلاف
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی