سٹی 42 : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک امریکہ تعلقات میں ایک سنگ میل ہے، اس سے پہلے امریکہ صدر کی پاکستانی آرمی چیف کی دعوت اور ملاقات کی مثال نہیں یہ تعلقات کی 78سال کی تاریخ سب سے اہم موڑ ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ اس ملاقات میں جس طرح بین الاقوامی اور خطہ کے معاملات زیر بحث آۓ اس سے وطنُ عزیز کی اہمیت اجاگر ہوئی۔پاکستان معاملات کو حل کرنے میں جس طرح مدد کر سکتا ہے، اس اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تنارعات کی دوبارہ بین الاقوامی حثیت اجاگر ہوئی۔

اساتذہ کا اسکولوں سے حاضری لگا کر غائب ہونے کا انکشاف

خواجہ آصف نے لکھا کہ یہ موجودہ حکمرانی کے ہائبرڈ ماڈل کی کامیابی ہے،  معیشت کی بحالی، ھندوستان کی شکست، امریکہ کے ساتھ تعلقات آبرومندانہ اور نہایت کامیاب بہتری، یہ سار ی انقلابی تبدیلیاں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تعاون سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے بہترین تعلق سے ممکن ہو سکیں۔

آخر میں انہوں نے لکھا کہ اللہ ہم سب کو ذاتی و گروہی مفادات سے بالا ہو کر قوم کی خد مت کرنے توفیق دے۔

شہر میں مردہ مرغیوں کی سپلائی کرنےوالامافیاسرگرم

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک امریکہ تعلقات میں ایک سنگ میل ھے۔ اس سے پہلے امریکہ صدر کی پاکستانی آرمی چیف کی دعوت اور ملاقات کی مثال نہیں یہ تعلقات کی 78سال کی تاریخ سب سے اھم موڑ ھے۔ اس ملاقات میں جسطرح بین الاقوامی اور خطہ کے معاملات زیر بحث آۓ اس سے وطنُ…

— Khawaja M.

Asif (@KhawajaMAsif) June 19, 2025

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار