اسکرین گریبز

بلوچستان کے شہر گوادر میں ایک سادہ سی تقریب اس وقت تاریخی لمحے میں تبدیل ہو گئی جب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک باہمت طالبہ کے شکوے کا غیرمعمولی انداز میں جواب دیا۔

تقریب کے دوران گوادر سے تعلق رکھنے والی طالبہ نفیسہ نے شکوہ کیا کہ اس کی آواز کوئٹہ تک نہیں پہنچتی اور اس کے تعلیمی مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے ناصرف نفیسہ کی بات کو پوری توجہ سے سنا بلکہ اس موقع پر جذباتی طور پر بھرپور ردعمل دیتے ہوئے اسے سٹیج پر بلایا، شفقت سے اس کا سر تھپتھپایا، ’بیٹی‘ کہہ کر مخاطب کیا اور انتہائی محبت اور عزت کے ساتھ اپنی نشست سے اٹھ کر اسے اپنی جگہ پر بٹھا دیا۔

بلوچ علیحدگی پسند تحریک کا انجام بھی کرد تحریک والا ہوگا: وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جس جنگ میں بلوچستان کو دھکیلا گیا ہے، وہ لا حاصل ہے، تشدد سے یہ ملک توڑا نہیں جا سکتا، بلوچ علیحدگی پسند تحریک کا انجام بھی کرد تحریک والا ہوگا۔

وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ نفیسہ کی تعلیمی اخراجات ذاتی حیثیت میں خود برداشت کریں گے تاکہ اس کی تعلیم کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ نفیسہ صرف گوادر نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی بیٹی ہے اور وہ ہر اس طالبِ علم کے ساتھ کھڑے ہیں جو علم کے راستے پر گامزن ہے۔



.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی نے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا