وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے باہمت طالبہ کے شکوے کا غیرمعمولی جواب
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
اسکرین گریبز
بلوچستان کے شہر گوادر میں ایک سادہ سی تقریب اس وقت تاریخی لمحے میں تبدیل ہو گئی جب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک باہمت طالبہ کے شکوے کا غیرمعمولی انداز میں جواب دیا۔
تقریب کے دوران گوادر سے تعلق رکھنے والی طالبہ نفیسہ نے شکوہ کیا کہ اس کی آواز کوئٹہ تک نہیں پہنچتی اور اس کے تعلیمی مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ناصرف نفیسہ کی بات کو پوری توجہ سے سنا بلکہ اس موقع پر جذباتی طور پر بھرپور ردعمل دیتے ہوئے اسے سٹیج پر بلایا، شفقت سے اس کا سر تھپتھپایا، ’بیٹی‘ کہہ کر مخاطب کیا اور انتہائی محبت اور عزت کے ساتھ اپنی نشست سے اٹھ کر اسے اپنی جگہ پر بٹھا دیا۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جس جنگ میں بلوچستان کو دھکیلا گیا ہے، وہ لا حاصل ہے، تشدد سے یہ ملک توڑا نہیں جا سکتا، بلوچ علیحدگی پسند تحریک کا انجام بھی کرد تحریک والا ہوگا۔
وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ نفیسہ کی تعلیمی اخراجات ذاتی حیثیت میں خود برداشت کریں گے تاکہ اس کی تعلیم کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ نفیسہ صرف گوادر نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی بیٹی ہے اور وہ ہر اس طالبِ علم کے ساتھ کھڑے ہیں جو علم کے راستے پر گامزن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی نے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔