ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
دو سال سے قریب عرصہ گزرگیا، اسرائیل فلسطینیوں پر اپنی جبری ریاستی دہشت گردی کے ذریعے آگ و خون کے گولے برسا رہا ہے۔ 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں زخمی حالت میں اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اسرائیل کی بربریت، سفاکی اور جارحیت کا یہ عالم ہے کہ وہ اسپتالوں، اسکولوں، پناہ گاہوں اور رہائشی بستیوں پر بھی بمباری کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ نہ ہی خوراک اور دیگر امدادی سامان غزہ کے متاثرین تک پہنچنے دیتا ہے نتیجتاً بھوک اور پیاس سے مظلوم فلسطینی اپنی جان کی بازی ہار رہے ہیں۔
اقوام متحدہ سے لے کر یورپی ممالک اور مسلم حکمرانوں تک کہیں سے کوئی ایسا موثر، ٹھوس اور بھرپور اقدام اب تک سامنے نہیں آیا کہ جو نیتن یاہو کی درندگی اور خوں ریزی کے آگے بند باندھ کر مظلوم، بے قصور اور نہتے فلسطینیوں کو اسرائیل کے بے رحمانہ مظالم سے نجات دلا سکے۔ بالخصوص 57 مسلم ملکوں کی قیادت کی مجرمانہ خاموشی، بے حسی، سنگ دلی اور مفاد پرستی نے صیہونی قوت کے حوصلوں کو مزید بلند کر دیا ہے اور وہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اب مسلم ملک ایران پر بھی حملہ آور ہو گیا ہے۔
ہر ملک کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے مطابق کسی ملک کی آزادی، خود مختاری اور قومی سلامتی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اسرائیل نے تمام عالمی قوانین کو پس پشت ڈال کر ایران پر حملہ کیا اور یہ بودا و بے بنیاد جواز گھڑا کہ ایران جوہری صلاحیت حاصل کر رہا ہے جسے وہ اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کی جنگی صلاحیت کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ اسرائیل نے 13 جون کی صبح ایران پر اپنے پہلے حملے میں اعلیٰ ایرانی فوجی قیادت اور معروف و کہنہ مشق سائنس دانوں کو شہید کر دیا۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنے دو ٹوک پیغام میں واضح طور پرکہا کہ ایران اپنے ایک ایک شہید کا بدلہ لے گا۔ جوابی حملے میں ایران نے درجنوں میزائل اور ڈرونز حملے کرکے اسرائیل کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔ تادم تحریر ایران اور اسرائیل دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملے کیے جا رہے ہیں اور ایک دوسرے کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران پر حملے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں لیکن ایک دنیا جانتی ہے کہ امریکی پشت پناہی کے بغیر اسرائیل ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا۔ امریکا خود ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مسقط میں مذاکرات کر رہا تھا جو آخری مراحل میں تھے۔ اسرائیل کو مذاکرات کے خاتمے اور اس کے حتمی نتیجے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تو اسرائیل کو ایران پر حملے سے روک سکتے تھے۔ جیساکہ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں اسرائیل ایران میں بھی پاک بھارت جیسا امن معاہدہ کرا سکتا ہوں۔
اس ضمن میں انھوں نے روسی صدر پیوٹن کی ثالثی کو بھی تسلیم کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ درحقیقت اسرائیل اور امریکا کو یہ توقع ہرگز نہ تھی کہ ایران اس قدر شدت اور بھرپور طریقے سے اتنا سخت جواب دے گا اور اسرائیل دھماکوں سے گونج اٹھے گا اور اس کی اہم تنصیبات کو ایرانی میزائل ہدف بنا کر حد درجہ نقصان پہنچا سکیں گے جیساکہ ایرانی قیادت نے انتباہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کا کوئی کونہ رہنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے۔ ایرانی فوج نے اسرائیلی آباد کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے فوری طور پر خالی کر دیں۔
ایران کے فوری، بھرپور، سخت اور غیر متوقع جواب اور امکانی شدید حملوں کے خوف ناک انجام کے پیش نظر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرح نیتن یاہو امریکا سے جنگ بندی کی اپیلیں کر رہا ہے۔ اسے اندازہ ہوگیا ہے کہ مسلم ممالک میں ایران اور پاکستان دو ایسی قوتیں ہیں کہ جنھیں زیر نہیں کیا جا سکتا۔
حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی جنگی صلاحیت و برتری اور بھارت کے عبرت ناک انجام کے بعد اسرائیل پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرے گا۔ صدر زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ چین، روس، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صورت حال کی نزاکت، سنگینی اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ضروری ہے کہ ایران اسرائیل جنگ رکوانے اور فلسطینیوں پر صیہونی مظالم کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا مثبت ثالثی کردار ادا کریں۔ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فوراً بلایا جائے، مسلم حکمران اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر مظلوم فلسطینیوں کی آواز سنیں۔ ایران کے خلاف جارحیت اور فلسطینیوں پر مظالم بند کروانے میں اسرائیل کے خلاف متحد و منظم ہو کر ٹھوس عملی اقدامات اٹھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیل کے ایران کے ایران پر کہ ایران کے خلاف رہے ہیں اور اس رہا ہے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں