Islam Times:
2026-07-24@03:25:12 GMT

ایران نے آج اسرائیل میں کونسے اہداف کو نشانہ بنایا؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

ایران نے آج اسرائیل میں کونسے اہداف کو نشانہ بنایا؟

موصولہ اطلاعات کے مطابق، حملے کا اصل ہدف اسرائیلی فوج کا بڑا کمانڈ اینڈ انٹیلیجنس مرکز (IDF C4I) اور گیو یام ٹیکنالوجی پارک میں واقع فوجی انٹیلیجنس کیمپ تھا، جو ایک اسپتال کے قریب واقع ہے۔ یہ مراکز ہزاروں فوجی اہلکاروں، ڈیجیٹل کمانڈ سسٹمز، سائبر آپریشنز، اور اسرائیلی فوج کے C4ISR سسٹمز کے حامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے میزائل آپریشن کے چودہویں مرحلے میں صہیونی حکومت کے ایک بڑے انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ تسنیم کے مطابق، آج بروز جمعرات صبح، ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف میزائل آپریشن کا چودھواں مرحلہ شروع ہوا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، حملے کا اصل ہدف اسرائیلی فوج کا بڑا کمانڈ اینڈ انٹیلیجنس مرکز (IDF C4I) اور گیو یام ٹیکنالوجی پارک میں واقع فوجی انٹیلیجنس کیمپ تھا، جو ایک اسپتال کے قریب واقع ہے۔ یہ مراکز ہزاروں فوجی اہلکاروں، ڈیجیٹل کمانڈ سسٹمز، سائبر آپریشنز، اور اسرائیلی فوج کے C4ISR سسٹمز کے حامل ہیں۔ بعض عبرانی میڈیا ادارے اس مقام کو، جو ایرانی میزائلوں کی زد میں آیا، "اسپتال" قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہی میڈیا جلدی سے یہ بھی اعتراف کر بیٹھا کہ یہ نام نہاد اسپتال دراصل صہیونی فوجیوں کا قیام گاہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایسے حالات میں جب صہیونی حکومت حزب اللہ لبنان پر حملے یا ایران کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہے اور اسپتالوں و ہلال احمر پر بھی حملہ کرتی ہے، تو صہیونی فوجیوں کے کیمپ کو "اسپتال" ظاہر کرنا بھی ایک دلچسپ چال ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے مطابق

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق