ایران نے میزائلوں سے اسرائیل پر اب تک سب سے بڑا حملہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں اسرائیلی ذرائع نے بڑے پیمانے پر تباہی کا اعتراف کیا ہے۔

جنوبی اسرائیل کے شہر بئر سبع اور تل ابیب میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے 3 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اردن میں موجود الجزیرہ کی نمائندہ نور عودہ کے مطابق، ایرانی میزائل حملوں میں بئر سبع کا ’سوروکا اسپتال‘ بھی متاثر ہوا۔ اسپتال کو پہنچنے والا نقصان براہِ راست حملے سے نہیں ہوا بلکہ دھماکے کی شدت سے پیدا ہونے والی ارتعاشی لہر کے باعث ہوا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حملے کا اصل ہدف اسپتال کے قریب موجود ایک ’حساس تنصیب‘ تھی۔

مزید براں ایرانی میزائل حملے میں تل ابیب میں واقع اسرائیلی اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ نور عودہ کے مطابق حملے سے شہر میں موجود اہم اقتصادی مرکز شدید طور پر متاثر ہوا ہے، جس کا فوری ردعمل اسرائیلی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ ارنا‘ نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں  کہا ہے کہ جمعرات کی صبح اسرائیل پر ہونے والے میزائل حملے کا اصل ہدف اسرائیلی فوج

 کا کمانڈ اور انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر تھا، جو ٹیکنالوجی پارک میں واقع ہے۔ ایرانی دعوے کے مطابق یہ فوجی انٹیلیجنس کیمپ جنوبی اسرائیلی شہر بئر سبع میں  سوروکا اسپتال کے ساتھ واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایران کا ’سجیل‘ میزائل کے ذریعے اسرائیل پر تازہ حملہ، اسرائیلی فوج کی شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت

ارنا کے مطابق حملے میں اسپتال کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسے صرف دھماکے کی ارتعاشی لہر سے معمولی نقصان پہنچا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ فوجی انفرا اسٹرکچر ایک درست اور براہ راست ہدف تھا۔

ایرانی حکام نے اس حملے کو دفاعی اقدام قرار دیا ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے انٹیلیجنس نیٹ ورک کو کمزور کرنا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔

واضح رہے کہ اس حملے میں تل ابیب اور دیگر علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، اور اسرائیلی اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کو بھی نقصان پہنچنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایران کا ایک اور اسرائیلی ایف 35 جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ، مجموعی تعداد 5 ہوگئی

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے یہ پیغام واضح ہے کہ وہ صرف سفارتی سطح پر ہی نہیں بلکہ فوجی میدان میں بھی جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، اور اسرائیلی حساس مقامات کو براہِ راست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ایران جنگ تل ابیب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران جنگ تل ابیب اور اسرائیلی کے مطابق تل ابیب

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم