ایرانی میزائلوں نے دنیا کے باوقار لوگوں کو خوش کر دیا: آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں اسرائیلی فضائی حملوں اور غزہ میں کیے گئے مظالم کے مناظر دکھائے گئے، جس کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے میزائلوں کی تباہ کاریوں اور ان پر لوگوں کے جشن منانے کی فوٹیج شامل کی گئی ہے۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح دنیا بھر میں لوگوں نے ایران کے ان حملوں کو سراہا، جو اسرائیل کے خلاف ردعمل کے طور پر کیے گئے۔ ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے:
"وہ میزائل جو دنیا کے باوقار انسانوں کے لیے خوشی کا باعث بنے۔"
ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان عسکری محاذ آرائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے حملے صرف اسرائیلی جارحیت کے خلاف دفاعی ردعمل ہیں جبکہ عالمی سطح پر ان حملوں پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
Missiles that delighted the noble of the world pic.
ایران کے حمایتی حلقے ان حملوں کو "مزاحمت کا نشان" قرار دے رہے ہیں، جبکہ اسرائیل نے انہیں "دہشتگردی" کا نام دیا ہے۔ تاہم ایران کے اعلیٰ ترین رہنما کی طرف سے ایسے بیان کا آنا، ایران کے مؤقف کی کھلی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی اقدام کو عالمی حمایت حاصل ہونے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران کے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔