اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں کی تفصیلات جاری کردیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں کی تفصیلات جاری کردیں۔
ترجمان اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے دو تہائی میزائل لانچرز کو نشانہ بنا چکے ہیں، ایران کے پاس اب بھی 100 سے زیادہ میزائل لانچرز موجود ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران میں بوشہر کو نشانہ بنانے کا بیان غلطی تھی، ایران میں نطنز، اصفہان اور آراک جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔
دوسری جانب ایرانی سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ ایران میں فلائٹ آپریشن کی معطلی میں جمعے کی شب 2 بجے تک توسیع کر دی ۔
اس سے قبل ایران نے اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ کردیا، پہلی بار 2 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے سجیل میزائلوں سے اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا۔ تل ابیب، رامت گن اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت کم از کم چھ مقامات پر میزائل گرنے سے شدید نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ تازہ ایرانی میزائل حملہ حالیہ حملوں میں سب سے زیادہ بڑا تھا، حکام نے الزام لگایا ہے کہ ایرانی میزائلوں نے شہری آبادی میں مراکز کو نشانہ بنایاہے، ایرانی میزائل نے جنوبی اسرائیل میں اسپتال کو بھی نشانہ بنایا ہے، میزائل گرنے کے مقامات پر بڑی تباہی ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کےآج کے حملوں کا ہدف آئی ڈی ایف کمانڈ اور انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر، آئی ڈی ایف انٹیلی جنس کیمپ تھا، سروکہ میں اسپتال کے قریب انٹیلیجنس دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میزائل حملے میں 47 اسرائیلی زخمی ہوئے، تین کی حالت تشویشناک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کو نشانہ بنایا ایرانی میزائل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج ہے کہ ایران
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز