WE News:
2026-07-24@08:26:51 GMT

ایران اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو کیسے چکمہ دے رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

ایران اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو کیسے چکمہ دے رہا ہے؟

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی میں حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک اور کروز میزائل اسرائیل کے جدید دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اپنے اہم اہداف تک پہنچے۔ یہ امر دنیا بھر میں عسکری تجزیہ کاروں کے لیے باعث حیرت ہے کیونکہ اسرائیل کا شمار دنیا کے سب سے مضبوط فضائی دفاعی نظام رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔

اسرائیلی دفاعی نظام، ایک جامع ڈھانچہ

اسرائیل کا دفاعی نظام متعدد سطحوں پر مشتمل ہے۔

Iron Dome: قریبی فاصلے کے راکٹ اور میزائلوں کو روکنے کے لیے

David’s Sling: درمیانے فاصلے کے میزائلوں کے لیے

Barak-8: زمین سے فضا میں مار کرنے والا نظام

Arrow-2 اور Arrow-3: طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کے لیے

یہ نظام ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور لانچر یونٹس پر مشتمل ہوتے ہیں، جو دشمن  کے میزائلوں کو ٹریک کر کے انہیں ہوا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پھر بھی ایرانی میزائل کیسے کامیاب ہوئے؟

ایران کی جانب سے تازہ حملوں میں بعض ایرانی میزائل اور ڈرونز اسرائیل کے دفاعی نظاموں کو چکمہ دے کر اہم اسرائیلی اہداف جیسے تل ابیب میں واقع ملٹری ہیڈکوارٹر (Kirya) اور سورکا اسپتال کے قریب انٹیلیجنس سنٹرز تک جا پہنچے۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو یہ کامیابی کیسے ملی؟ وہ اسرائیل کے دفاعی نظام کو چکمہ دے کر کیسے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے؟ اس کی چند بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں:

میزائلوں کی بھرمار اور انٹرسپٹرز کی حد

ایران نے ایک ساتھ 400 سے زائد میزائل اور سینکڑوں ڈرون فائر کیے۔ یہ over-saturation کی حکمتِ عملی کہلاتی ہے، جس میں اتنی بڑی تعداد میں حملے کیے جاتے ہیں کہ دفاعی نظام کے ہاں انٹرسپٹر میزائلوں کی حد ختم ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیے ایران کا سجیل 2 میزائل: اسرائیل میں تباہی مچانے والے جدید ترین ہتھیار کی خاص بات کیا؟

اسرائیلی نظام کے پاس انٹرسپٹر میزائلوں کی تعداد محدود ہے، اور ہر میزائل کے جواب میں عموماً 2 انٹرسپٹر داغے جاتے ہیں۔

????BREAKING : ???????????????????? CNN reports that Iran has launched nearly 400 ballistic missiles and approximately 1,000 drones targeting Israel so far.

pic.twitter.com/ilnInvScZF

— Defense Intelligence (@DI313_) June 18, 2025

ہائپرسونک میزائلز کا استعمال

ایران کے پاس Fattah-2 جیسے hypersonic glide vehicles (HGV) موجود ہیں، جو آواز سے 5 گنا زیادہ رفتار سے پرواز کرتے ہیں۔
یہ میزائل نہ صرف تیز رفتار ہوتے ہیں بلکہ ان کی پرواز کا راستہ مسلسل بدلتا ہے، جس کی وجہ سے روایتی دفاعی نظام ان کے بارے میں اندازہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔

کروز میزائلز کی چالاکی

کروز میزائل، جیسے Hoveyzeh, بہت کم بلندی پر اور مسلسل پرواز کرتے ہوئے ہدف کی طرف بڑھتے ہیں، اس کی وجہ سے ان کا ریڈار کی نظر سے بچنا ممکن ہو جاتا ہے۔
یہ میزائل طیاروں کی مانند پرواز کرتے ہیں اور اکثر شہری یا غیر عسکری راستوں سے گزر کر اچانک وار کرتے ہیں۔

???????????? Des quartiers entiers de Tel-Aviv réduits à l’état de ruines sous une pluie de missiles balistiques iraniens.#israel #Iran pic.twitter.com/xbTq9cDnPE

— Shanna Messaoudi (@Shanna__Bylka) June 19, 2025

جعلی اہداف اور ڈی کوائز (Decoys)

ایران نے ممکنہ طور پر جعلی میزائل یا ڈرونز بھی استعمال کیے، جنہیں دفاعی نظام حقیقی خطرہ سمجھ کر انٹرسپٹرز استعمال کرتا ہے۔
یہ طریقہ دفاعی نظام کی صلاحیت اور انٹرسپٹر ذخیرے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ریڈار کو چکمہ دینے والی ٹیکنالوجی

ایرانی میزائل بعض اوقات ریڈار جیمنگ یا سپریس کرنے والی ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہوتے ہیں، جس سے ان کی شناخت اور تعاقب مشکل ہو جاتا ہے۔

کیا اسرائیل یا ایران کے ہتھیار ختم ہو سکتے ہیں؟

تجزیہ کار الیکس گیٹوپولس  کے مطابق یہ جنگ ایک تھکانے والی جنگ بن چکی ہے۔ دونوں ممالک اپنے میزائل ذخائر، لانچ سسٹمز، اور فضائی نگرانی کی استعداد کو مسلسل آزما رہے ہیں۔

اسرائیل کے لیے ایران پر حملہ آسان نہیں کیونکہ زمینی فاصلہ تقریباً 1,000 کلومیٹر ہے۔ طویل پروازوں کے لیے ایندھن کی کمی اور طیاروں کا زیادہ دیر تک فضاء میں رہنا ممکن نہیں حتیٰ کہ امریکی مدد سے بھی محدود صلاحیت ہی حاصل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایران کا سب سے بڑا میزائل حملہ، آرمی انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر اور اسٹاک ایکسچینج کی عمارت نشانہ بن گئی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں کا اسرائیلی دفاعی نظام کو چکمہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی دفاعی نظام 100٪ ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ حکمتِ عملی، رفتار اور مقدار بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں ایران اسرائیل جنگ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ذہانت، حکمت عملی، اور برداشت کا بھی امتحان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی دفاعی نظام ایران اسرائیل جنگ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی دفاعی نظام ایران اسرائیل جنگ ایرانی میزائل دفاعی نظام کو اسرائیل کے کرتے ہیں کو چکمہ چکمہ دے کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم