اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات سمیت تمام اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر فورڈو کے جوہری مرکز کو بھی نشانہ بنانے کی بات کی جو زمین کے نیچے محفوظ مقام پر واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل ایران تصادم: نیتن یاہو کی ڈوبتی سیاست کو کنارہ مل گیا

اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے بتایا کہ اسرائیل یہ کارروائیاں امریکا کی مدد کے بغیر بھی کر سکتا ہے اور میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی کے باوجود لانچرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو زیادہ اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ مہم کئی مہینوں سے منصوبہ بندی میں تھی، خاص طور پر اس وقت سے جب حزب اللہ کو پچھلے سال کے آخر میں سخت نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حسن نصراللہ کی ہلاکت اور حماس کے خلاف کامیاب کارروائیوں نے ایران کے اثر و رسوخ کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران کے اندر سرکاری اہداف، علامتی مقامات اور بشمول نشر و اشاعت کے اداروں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، اور مزید حملے بھی کیے جائیں گے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ ساری کارروائیاں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں، اور اسرائیل یہ عمل مکمل کرے گا چاہے عالمی حمایت ہو یا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران جوہری تنصیبات نیتن یاہو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران جوہری تنصیبات نیتن یاہو نیتن یاہو

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان