ایران کا خوف،اسرائیلی وزیرا عظم کی اسپتال حملے کا بیانیہ گھڑنے کی ناکام کوشش
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: ایران کی جانب سے تازہ بیلسٹک میزائل حملے میں اسرائیلی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا جب کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حملے کے اثرات کو اسپتال پر حملے سے جوڑنے کی کوشش کی جو کہ حقائق سے متصادم اور عالمی سطح پر مسترد کی گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صبح کیے گئے بیلسٹک میزائل حملوں میں اسرائیلی فوجی کمانڈ، انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر اور ایک خفیہ انٹیلی جنس کیمپ کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، ان حملوں میں اسرائیلی فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جسے اسرائیلی میڈیا نے موجودہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عوامی ردعمل کو اپنے حق میں کرنے اور عالمی ہمدردی سمیٹنے کے لیے دعویٰ کیا کہ ایرانی میزائلوں نے وسطی اسرائیل میں شہری آبادی اور سروکا اسپتال کو نشانہ بنایا ہے،ایرانی ظالموں کو اسپتال پر حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
واضح رہے کہ ایران نے اس بیانیے کی نفی کی ہے، سچ یہ ہے کہ ساروکا اسپتال کو صرف معمولی نقصان پہنچا جو کہ قریبی فوجی تنصیبات کی وجہ سے میزائلوں کی زد میں آیا، ایران نے اسپتال کو نشانہ بنانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حملے مکمل طور پر فوجی نوعیت کے تھے اور مخصوص دفاعی و انٹیلی جنس اہداف پر کیے گئے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے بھی حالات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حملے کا بدلہ لیا جائے گا اور رہبر اعلیٰ خامنہ ای کو براہِ راست نشانہ بنانے کا عندیہ دیا،تہران میں موجود خطرے کو ختم کرنے کے لیے حملوں میں شدت کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایران کی اس پیش قدمی نے نہ صرف اسرائیلی عسکری اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ نیتن یاہو کی حکومت کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ہے۔
خیال رہے کہ اس حملے میں 65 سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں متعدد کی حالت تشویشناک ہے، تاہم ان میں بیشتر کا تعلق اسرائیلی فوج یا سیکیورٹی اداروں سے بتایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔