Islam Times:
2026-07-24@04:42:29 GMT

غیرت ہے بڑی چیز

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

غیرت ہے بڑی چیز

اسلام ٹائمز: ایران نے حیفہ کے سب سے بڑے بجلی گھر کو نیست و نابود کرکے اسے اندھیروں کے سمندر میں ڈبو دیا ہے۔ مذکورہ آئل ریفائنری اسرائیل کی ساٹھ (60) فیصد ضروریات پوری کر رہی تھی۔ اسرائیل تلملا اٹھاہے۔ اسی لیے وہ امریکہ کو براہ راست جنگ میں شریک ہونے کا کہہ رہا ہے اور یہودی عوام ایران سے حملے نہ کرنے کی بھیک مانگ رہی ہے۔ امریکی عوام بھی ہمیں کئی حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ اسرائیل کی لگائی گئی آگ میں ہمارا ملک جل کر بھسم نہ وہ جائے۔ نتائج جو بھی ہوں، لیکن یہ بات پوری دنیا کے سامنے کھل کر آگئی ہے کہ اسلامی جمہوری ایران ایک بہادر قوم کا ملک ہے اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف خدائے برزگ و برتر سے ڈرتے ہیں، دنیا کی کوئی طاقت انہیں جھکا نہیں سکتی۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی

غیرت ایمان کا بہت اہم جزو ہے۔ ایک غیرت مند مسلمان ہی اصل مسلمان ہوتا ہے۔ غیرت سے خالی مسلمان زاہد بحر و بر کیوں نہ ہو، وہ حقیقی مسلمان کہلانے کا صحیح حقدار نہیں ہے۔ ایک شب زندہ دار اگر ایمانی غیرت نہیں رکھتا تو اس کا راتوں کو جاگنا فضول اور عبث ہے۔ جو مسلمان مصلحت پسند اور بزدل ہو جائے تو وہ صاحب ایمان کہلانے کا حق دار نہیں ہے۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالمﷺ نے فرمایا: "قریب ہے کہ دنیا کی قوتیں تم پر چڑھ دوڑیں، جیسے کھانے والوں کو کھانے کے پیالے(دستر خوان) پر دعوت دی جاتی ہے۔" کسی نے عرض کیا یارسول اللہﷺ کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہونگے۔؟ آپﷺ نے فرمایا: "نہیں بلکہ تم اس وقت کثرت میں ہوگے، لیکن سیلاب کی جھاگ کی طرح۔" اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وھن ڈال دے گا۔ صحابی نے پوچھا یارسول اللہﷺ وھن کیا ہے۔؟ فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے کراہت (ڈر)۔"(اس حدیث کو امام ابو دائود سجستانی نے سنن ابی دائود میں ذکر کیا ہے۔ حدیث نمبر 4297)۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے، جس کی راویہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ہیں، وہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے۔" (اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے۔) ان درجہ بالا احادیث کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک غیرت مند مسلمان ہی اللہ کے قرب میں آسکتا ہے۔ غیرت مند مسلمان اللہ کو بہت پیارا ہے۔ چونکہ وہ خود سب سے بڑا غیرت مند ہے، اسی لیے وہ غیرت مندوں کو ہی پسند فرماتا ہے۔ غیرت کی وجہ سے ہی دنیا کا کروفر ہے۔ غیرت کی وجہ سے ہی اخروی کامیابی ہے۔ اس دنیا میں غیرت سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں مسلمانوں کو غیرت مند رہنے کا بہت درس دیا ہے۔ چنانچہ وہ ایک نظم جس میں ایک بڈھے بلوچ کی اپنے بیٹے کو نصیحت کا ذکر کرتے ہیں، اسے کچھ اس طرح منظوم کرتے ہیں۔

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سردارا
دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا
اخلاصِ عمل مانگ نیا کانِ کُہن سے
’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘

آج ایک دفعہ پھر امت کو معرکہ روح و بدن پیش ہے، روح کا نمائندہ اسلامی جمہوری ایران ہے اور بدن کی نمائندگی اسرائیل، امریکہ اور ان کے یورپی حواری کر رہے ہیں۔ ایران روح ایمانی کے ساتھ جذبہ شہادت سے لبریز میدان کارزار میں تنہاء کھڑا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں خون خوار درندے کھڑے ہیں۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ ایران ایک ایسا غیرت مند بھیڑیا ہے کہ جس نے کبھی غلامی کو اپنے نزدیک تک نہیں آنے دیا۔ وہ اکیلا ہی دشمنان اسلام کے لیے کافی و وافی ہے۔ مگر افسوس ہے ان غلاموں پر، تف ہے ان حکمرانوں پر جو اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں، مگر ان کا سب کچھ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ہے۔ ان کی سرزمین، ان کے وسائل اسرائیل اور امریکہ کے لیے ہیں۔ وہ اسلام دشمن قوتوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ اسرائیلی طیارے ایران پر بارود کی بارش کر رہے ہیں اور وہ وسائل اسلامی ممالک کے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی ری فیولنگ اسلامی ممالک سے ہو رہی ہے۔ یہ بزدل حکمران وھن کی بیماری کا شکار ہوگئے ہیں۔ یہ دنیا کے حریص اور موت سے خائف ہیں۔

لیکن الحمدللہ اسلامی جمہوری ایران بڑی شان و شوکت کے ساتھ میدان کارزار میں کھڑا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میرا وطن پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ میرے وطن کی خدمات کا اسلامی جمہوری ایران کی پارلیمنٹ نے فلک شگاف نعروں کے ساتھ اعتراف کیا ہے۔ اسلام مخالف اور کچھ زر پرست صحافی ایران کے بارے میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، جو بہت قابل افسوس ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ تل ابیب اور حیفہ جیسے اہم اسرائیلی شہروں اور ان کی عوام نے اپنی ناجائز پیدائش کے بعد سے اب تک ایسی تباہی کے خوفناک مناظر کبھی نہیں دیکھے تھے۔ تل ابیب کی فلک بوس عمارات کو ایرانی ہائپر سونگ بلیسٹک میزائلوں نے کچرے کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا ہے۔

حیفہ اسرائیل کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسرائیل کے تمام بڑے پروجیکٹس اسی شہر میں ہیں۔ اقتصادی اور صنعتی اعتبار سے یہ شہر اسرائیل کے لیے بہت ہی اہم ہے۔ یہ اس ملک کا معاشی حب ہے۔ اس شہر کے ساتھ پوری دنیا کے یہودیوں اور صیہونیوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ یہاں ایک آئی ٹی شہر ہے، جو پورے اسرائیل کو چلا رہا ہے۔ یہاں تجارتی کمپنیوں کے بڑے بڑے دفاتر ہیں۔ یہاں بین الاقوامی کمپنیوں کے سافٹ وئیرز بھی بنائے جاتے ہیں۔ مغرب کے وائیٹل ڈیجیٹل سسٹم کی بنیاد بھی حیفہ ہی ہے۔ اسرائیل کی جی ڈی پی میں بھی اس شہر کا بہت ہی اہم کردار ہے۔ یہاں بڑے بڑے یہودی سرمایہ دار آباد ہیں۔ ایران نے اس شہر کو بہت کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ یہاں ایک بہت بڑی آئل ریفائنری تھی، جسے ایرانی میزائیلوں نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

ایران نے حیفہ کے سب سے بڑے بجلی گھر کو نیست و نابود کرکے اسے اندھیروں کے سمندر میں ڈبو دیا ہے۔ اب حیفہ کو دوسرے ذرائع سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ مذکورہ آئل ریفائنری اسرائیل کی ساٹھ (60) فیصد ضروریات پوری کر رہی تھی۔اسرائیل تلملا اٹھاہے۔ اسی لیے وہ امریکہ کو براہ راست جنگ میں شریک ہونے کا کہہ رہا ہے اور یہودی عوام ایران سے حملے نہ کرنے کی بھیک مانگ رہی ہے۔ امریکی عوام بھی ہمیں کئی حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ اسرائیل کی لگائی گئی آگ میں ہمارا ملک جل کر بھسم نہ وہ جائے۔ نتائج جو بھی ہوں، لیکن یہ بات پوری دنیا کے سامنے کھل کر آگئی ہے کہ اسلامی جمہوری ایران ایک بہادر قوم کا ملک ہے اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف خدائے برزگ و برتر سے ڈرتے ہیں، دنیا کی کوئی طاقت انہیں جھکا نہیں سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوری ایران اسرائیل کی دنیا کی نہیں ہے رہے ہیں کے ساتھ دنیا کے دیا ہے اور ان ہے اور کیا ہے رہی ہے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف