data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ بہت ہوگیا، امریکا کو ایران کے خلاف نیتن یاہو کی غیرقانونی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ مشرقی وسطیٰ میں جنگ میں شرکت امریکا کی بڑی اور مہلک غلطی ہوگی، جنگ میں شامل ہونے کے بجائے امریکی صدر کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسرائیل کو جارحیت سے روکنا ہوگا۔برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی کرکے ایران پر حملہ کردیا۔ اسرائیل کا حملہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی سفارتی کوششوں کو سبوتاژکرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے انٹیلی جنس نے کبھی یہ اشارہ نہیں دیا کہ ایران نے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی سینیٹر نے کہا کہ ایران میں موجودہ حکومت 1953 میں مغربی حکومتوں کے ایما پر ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں سامنے آئی جب ایک منتخب حکومت کو گھر بھیج کر مطلق العنان بادشاہت کو موقع دیا گیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی آئین اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف فوجی حملہ امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
امریکی سینیٹر

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی سینیٹر

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم