امریکا کو ایران کیخلاف غیر قانونی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ بہت ہوگیا، امریکا کو ایران کے خلاف نیتن یاہو کی غیرقانونی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ مشرقی وسطیٰ میں جنگ میں شرکت امریکا کی بڑی اور مہلک غلطی ہوگی، جنگ میں شامل ہونے کے بجائے امریکی صدر کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسرائیل کو جارحیت سے روکنا ہوگا۔برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی کرکے ایران پر حملہ کردیا۔ اسرائیل کا حملہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی سفارتی کوششوں کو سبوتاژکرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے انٹیلی جنس نے کبھی یہ اشارہ نہیں دیا کہ ایران نے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی سینیٹر نے کہا کہ ایران میں موجودہ حکومت 1953 میں مغربی حکومتوں کے ایما پر ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں سامنے آئی جب ایک منتخب حکومت کو گھر بھیج کر مطلق العنان بادشاہت کو موقع دیا گیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی آئین اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف فوجی حملہ امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
امریکی سینیٹر
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی سینیٹر
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔