ہم ایران کے جرأت مندانہ اقدام کو سراہتے ہیں، جماعت اسلامی بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
کوئٹہ میں ایرانی قونصل جنرل سے ملاقات کے موقع پر جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر نے کہا کہ جوہری پروگرام ایران کا حق ہے۔ اگر آج متحد ہو کر قابض صہیونی ریاست کا مقابلہ نہ کیا گیا تو کل سب کی باری آئیگی۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی بلوچستان نے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری پروگرام ایران کا حق ہے۔ یہ وقت مسلم امہ کے اتحاد کا ہے، اگر آج متحد ہو کر قابض صہیونی ریاست کا مقابلہ نہ کیا گیا تو کل سب کی باری آئے گی۔ کوئٹہ میں ایرانی قونصل جنرل علی رضا رجائی سے ملاقات کے موقع پر جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور نائب امیر ڈاکٹر عطاء الرحمان نے پانچ روز سے جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایرانی عوام کا بھرپور جوابی حملے پر تعریف کی اور اسرائیل کی دہشت گردانہ حملے میں نشانہ بننے والے آرمی کے افسران سمیت جوہری سائنسدانوں اور بڑی تعداد میں عام شہریوں کی شہادت پر پاکستانی عوام کی طرف سے تعزیت کی۔ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے ایرانی قونصل جنرل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو ایران میں پاکستانیوں کو نکالنے کے ساتھ جنگ سے متاثرہ ایرانی مہاجرین اور امداد و تجارت کیلئے بھی بارڈرز کھولنا چاہئے۔
جماعت اسلامی کے رہنماء نے کہا کہ اس موقع پر عالم اسلام بلخصوص پاکستان، ترکی، سعودی عرب نے ایران کا ہر حوالے سے ساتھ نہ دیا تو اسرائیل اور امریکہ کا اگلا ہدف پاکستان و ترکی ہوگا۔ اسرائیل ناجائز دہشت گرد ریاست ہے۔ جس نے امریکی آشیرباد سے فلسطین و دیگر مسلم ممالک کی سرزمین پر قبضہ کیا ہے۔ اسرائیل حماس، فلسطین اور غزہ، جبکہ امریکہ عراق، شام اور مسلمانوں کا قاتل ہے۔ اسرائیل پاکستان کے درمیان تفرقہ فروعی شیعہ سنی اختلافات والے دونوں ممالک کے عوام کے دشمن ہیں۔ یہود و نصاریٰ نے غزہ فلسطین میں ظلم کا بازار گرم کیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، مغربی میڈیا، اقوام متحدہ اسرائیلی و امریکی دہشت گردی پر خاموش ہیں۔ 57 اسلامی ممالک اسلحہ و گولہ بارود، جنگی جہاز، ڈرونز، ایٹم بم اور لاکھوں افواج اس کے باوجود امریکی غلام بزدل بنے ہوئے ہیں۔ ہم ایران کے جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہیں۔ جوہری پروگرام ایران کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت مسلم امہ کے اتحاد کا ہے، اگر آج متحد ہو کر قابض صہیونی ریاست کا مقابلہ نہ کیا گیا تو کل سب کی باری آئے گی۔ او آئی سی اجلاس بلا کر متفقہ لائحہ عمل اپنانا اور دشمن کے عملی اقدامات کرنا وقت کا تقاضا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بلوچستان ایران کا کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔