امریکہ کیساتھ تیل نکالنے کا معاہدہ پاکستان کو مکمل طور پر امریکہ کی غلامی میں دینے کا معاہدہ ہے، پروفیسر ابراہیم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ ملٹری اور سول اسٹبلشمنٹ معاہدے پر خوشیاں منا رہے ہیں لیکن معاہدہ پاکستان کے مفاد میں ہر گز نہیں ہے۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تیل نکالنے کا معاہدہ پاکستان کو مکمل طور پر امریکہ کی غلامی میں دینے کا معاہدہ ہے۔ ملٹری اور سول اسٹبلشمنٹ معاہدے پر خوشیاں منا رہے ہیں لیکن معاہدہ پاکستان کے مفاد میں ہر گز نہیں ہے۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ امریکہ کو معدنیات تک رسائی کے لیے خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں جنگ رچائی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام جنگوں اور فوجی آپریشنوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ امریکی مفادات کے لیے خیبر پختونخوا میں آگ اور خون کا سلسلہ بند کیا جائے۔ لکی مروت کے علاقے سُربند اور شیخ خلہ میں آبادی پر ڈرون سے بم گرانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔ نوجوان اور بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ معاشرے کی اصلاح، منشیات کی روک تھام اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے جماعت اسلامی عوامی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جماعت اسلامی صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اصلاحی تحریک ہے جو عوام کی عملی رہنمائی اور خدمت کو اپنا فرض سمجھتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سگوٹہ سوات میں جماعت اسلامی ضلع بنوں کی سہ روزہ تربیت گاہ برائے ارکان و امیدواران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے نائب امیر حاجی اختر علی شاہ، ضلع بنوں کے امیر مفتی عارف اللہ اور سیکرٹری جنرل اعجاز الحق سورانی نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ اسلامی شریعت اور نظام کا قیام ہم سب کا مطالبہ اور مقصد ہے، لیکن اس کے لیے بندوق اٹھانے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی حمایت نہیں کرتے، ہم پُر امن اور آئینی جد و جہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی بھی اسلامی نظام کے لیے تشدد کے بجائے آئینی راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے سول و ملٹری اسٹبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلح گروہوں کے خلاف قرآنی آیات کا سہارا لینے کی بجائے ملک اور فوجی اداروں میں اسلامی نظام رائج کردیں تو یہ جھگڑا ہی ختم ہو جائے گا۔ پاکستان تب ہی اسلام کا قلعہ بنے گا جب اس قلعے کے اندر بھی اسلام کا نظام نافذ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ عوام با صلاحیت لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجیں تاکہ ان کے مسائل حل ہو سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: معاہدہ پاکستان خیبر پختونخوا جماعت اسلامی کا معاہدہ کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔