گستاخ اہل بیت مولوی عطاء اللہ بندیالوی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ذرائع کے مطابق پولیس نے عطا اللہ بندیالوی کو جماعتی وکیل بلال ایڈوکیٹ کی گاڑی سے اتار کر اپنی گاڑی میں منتقل کر لیا اور کہا کہ عطا اللہ بندیالوی پر ایف آئی آرز درج ہیں، ہم آپ کو تفصیلات واٹس ایپ پر بھیج دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اشاعت توحید و السنہ پنجاب کے رہنماء اور یزید ملعون کے وکیلوں کے سرخیل مولوی عطاء اللہ بندیالوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اشاعت توحید و السنہ کے ذرائع کے مطابق سرگودہا میں جمعہ کی نماز کے بعد عطاء اللہ بندیالوی حسبِ معمول مہمان خانے میں موجود تھے کہ چند پولیس اہلکار وہاں آئے، ابتدائی گفتگو کے بعد عطاء اللہ بندیالوی نے مقامی ایم این اے اور جماعتی وکیل بلال ایڈووکیٹ کو بھی بلا لیا، کافی دیر تک غیر رسمی بات چیت جاری رہی۔ جب عطاء اللہ بندیالوی اُٹھنے لگے تو پولیس والوں نے کہا کہ ہمارے دو سینیئر افسر آرہے ہیں، جو آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
افسران کے پہنچنے پر انہوں نے بلال ایڈووکیٹ سے کہا کہ عطاء اللہ بندیالوی کو اپنی گاڑی میں ہمارے چاندنی چوک دفتر لے آئیں، جہاں بات چیت ہوگی اور ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔ جب وہ لوگ مدرسے سے نکلے اور کچھ ہی فاصلے پر پہنچے تو پولیس نے عطاء اللہ بندیالوی کو بلال ایڈووکیٹ کی گاڑی سے اتار کر اپنی گاڑی میں منتقل کر لیا اور کہا کہ عطاء اللہ بندیالوی پر ایف آئی آرز درج ہیں، ہم آپ کو تفصیلات واٹس ایپ پر بھیج دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔