سوات کے بعد صوابی میں مدرسے کے 6 سالہ طالبعلم پر قاری کا تشدد
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
پولیس ٹیم فوری طور موقع پر پہنچ کر قاری کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ اسلام ٹائمز۔ سوات کے علاقے خوازہ خیل میں مدرسے کے قاری کے تشدد سے بچے کی موت کے بعد اب ضلع صوابی سے بھی قاری کے 6 سالہ بچے پر تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوابی میں مدرسے کیلیے تاخیر سے آنے پر استاد نے 6 سالہ بچے پر تشدد کر کے زخمی کر دیا، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قاری کو گرفتار کر لیا۔ ڈی پی او آفس کے مطابق محمد عاصم نے پولیس کو اطلاع دی کہ چھوٹا لاہور کی جامع مسجد ڈھیرانے محلہ میرا ڈھوک میں ان کا بیٹا محمد عیسٰی دینی علوم حاصل کر رہا ہے۔ گزشتہ روز معمول کے مطابق مسجد گیا جہاں لیٹ آنے پر قاری محمد سہیل نے بے دردی سے ڈنڈے سے مارا، جس سے بچے کی کمر پر لال نشان موجود ہیں۔
پولیس ٹیم فوری طور موقع پر پہنچ کر قاری کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ ایس ڈی پی او سرکل لاہور محمد نعمان نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات پر مقامی پولیس کو فوری طور اطلاع دی جائے، معاشرے کے بچے ہم سب کا بچے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر لیا
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔