لاہور میں مرد و خواتین کو ای ٹیکسیاں بلاسود قرضوں پر دی جائیں گی، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت لاہور میں جدید سفری سہولیات فراہم کرنے جا رہی ہے جن میں ای ٹیکسی اسکیم اور ڈرائیور لیس ٹرام سروس شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد نہ صرف شہریوں کے سفر کو آسان بنانا ہے بلکہ نوجوانوں اور خواتین کو باعزت روزگار کی فراہمی بھی یقینی بنانا ہے۔
وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بلال اکبر خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جلد ای ٹیکسی اسکیم کا افتتاح کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کی ہدایت
انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کے پہلے مرحلے میں لاہور کے رہائشی افراد کو 1100 الیکٹرک ٹیکسیاں دی جائیں گی جن میں 30 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
وزیرٹرانسپورٹ نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت حکومت 65 لاکھ روپے کا بغیر سود قرض دے گی جبکہ گاڑی حاصل کرنے کے لیے 18 سے 20 لاکھ روپے کی ڈاؤن پیمنٹ دینی ہوگی جس پر بھی حکومت کی طرف سے معاونت پر غور کیا جا رہا ہے، اس قرض کی ماہانہ قسط 55 سے 60 ہزار روپے کے درمیان ہوگی۔
بلال اکبر خان نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں ایک ہزار گاڑیاں آن لائن ٹیکسی آپریٹرز جیسے انڈرائیو اور ینگ گو کے ساتھ منسلک ڈرائیورز کو دی جائیں گی جبکہ 100 گاڑیاں عام شہریوں کو فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہ اکہ درخواستوں کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں یہ کوٹہ بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب میں میٹرو بس اور اورنج لائن کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
ای ٹیکسی کے لیے درخواستوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع ہوں گی اور کامیاب امیدواروں کا انتخاب بیلٹنگ کے ذریعے ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کی کامیابی کی صورت میں ای ٹیکسیوں کی تعداد 8 سے 10 ہزار تک بڑھائی جائے گی۔
بنا ڈرائیور والی ٹرام سروسصوبائی وزیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ لاہور کی نہر پر پہلی ڈرائیور لیس ٹرام سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے جو ٹھوکر نیاز بیگ سے ہر بنس پور تک چلے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرام کا ٹریک 28 کلومیٹر طویل ہوگا اور اس میں 26 اسٹیشنز ہوں گے اور یہ ورچوئل ٹریک پر گوگل سسٹم کے ذریعے آپریٹ ہو سکے گی اور مکمل طور پر ڈرائیور کے بغیر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم ٹریفک کی صورتحال کے پیش نظر فی الحال ڈرائیور کے ذریعے چلائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ٹرام میں 300 مسافروں کی گنجائش ہوگی اور ہر 5 سے 6 منٹ بعد اگلی ٹرام دستیاب ہوگی۔
بلال اکبر خان نے کہا کہ یہ الیکٹرک ٹرام ایک چارج پر 300 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر یہ سروس کامیاب ثابت ہوتی ہے تو اسے لاہور کے دیگر علاقوں جیسے گلبرگ اور ڈیفنس تک توسیع دی جائے گی۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ پنجاب انٹرن شپ پروگرام: وظیفے کی رقم میں 100 فیصد سے زائد اضافہ
انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی نوجوانوں کے لیے کاروباری اسکیم کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے ٹاپرز کو ای بائیکس دی جائیں گی جبکہ لوڈر رکشے صرف ان نوجوانوں کو دیے جائیں گے جو کاروباری مقاصد کے لیے اسکیم میں اپلائی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رکشے طلبہ کے لیے نہیں بلکہ روزگار کے خواہش مند افراد کے لیے مختص ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
لاہور میں ای ٹیکسیاں لاہور میں بنا ڈرائیور ٹرام وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور میں ای ٹیکسیاں لاہور میں بنا ڈرائیور ٹرام وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف انہوں نے مزید کہ نے مزید کہا کہ بلال اکبر خان دی جائیں گی لاہور میں نے کہا کہ کے ذریعے کے لیے میں ای
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔