لاہور میں خطاب میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عدل کے نظام انصاف کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا۔ پولیس کو راستے سے ہٹانا ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن ہم لڑنا نہیں چاہتے، بلکہ بلوچستان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیٹی پر آج سے کام شروع نہیں ہوا تو پھر میں لانگ مارچ کا آغاز کروں گا اور پھر ہم دیکھیں گے کہ کون ہمارا راستہ روکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ سازشیں کرنیوالا حکمران طبقہ ہے اور سرمایہ داروں کیساتھ مل کر لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے، طاقتور لوگ جب وسائل پر قبضہ کریں گے تو غم و غصہ تو پیدا ہو گا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے لاہور پریس کلب کے باہر دھرنے کے دوسرے روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ بلوچ عوام کے ساتھ ہیں۔ پورا پاکستان بلوچستان کیساتھ ہے۔ انہوں ںے کہا کہ جماعت اسلامی سب کے حقوق کیلئے بات کرتی ہے اور ہمیں معلوم ہے پنجاب، بلوچستان کی حکومت فارم 47 والی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عدل کے نظام انصاف کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا۔ پولیس کو راستے سے ہٹانا ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن ہم لڑنا نہیں چاہتے، بلکہ بلوچستان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیٹی پر آج سے کام شروع نہیں ہوا تو پھر میں لانگ مارچ کا آغاز کروں گا اور پھر ہم دیکھیں گے کہ کون ہمارا راستہ روکتا ہے۔ سیدھے طریقے سے آج ہی مذاکرات شروع کریں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچ، پشتونوں کو عزت دو۔ بلوچ نوجوانوں کے زخموں پر مرہم رکھنا ہو گا۔ بلوچستان کے لاپتا نوجوانوں کے حکومت شواہد پیش کرے اور لاپتا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ کمیشن میں لاپتا نوجوانوں کو پیش کیا جائے اور اگر کوئی مجرم یا ملک دشمن ہے تو عدالتوں میں پیش کرو۔ انہوں نے کہا کہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا چھوڑ دو اس طرح ریاستیں نہیں چلتیں۔ معدنیات پر پہلا حق مقامی لوگوں کا ہے اور تمام لوگوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان کے حافظ نعیم نے کہا کہ

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن