آیت اللہ خامنہ ای کے بعد 100 دن کی عبوری حکومت بنائی جائے گی،رضا پہلوی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
واشنگٹن: سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی نے ایران میں رجیم کی تبدیلی کے بعد کا منصوبہ بیان کردیا۔
رضا پہلوی کا کہنا ہے کہ ایران فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کنٹرول کھو دیا ، موجودہ حکومتی نظام کا خاتمہ قریب ہے۔
ایران کے سابق بادشاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی نے اپنے بیان میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد 100 دن کی عبوری حکومت بنائی جائے گی۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں رضا پہلوی نے کہا کہ ایرانی عوام اسلامی جمہوریہ ایران کے سقوط کے بعد کے دور کے بارے میں فکرمند نہ ہوں، ہمارے پاس ایران کے مستقبل کے لیے منصوبہ موجود ہے۔
ہم نے ابتدائی 100 دن کی عبوری حکومت اور اس کے بعد کی قومی جمہوری حکومت کے لیے تیاری کی ہوئی ہے۔
انہوں نے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے کہاکہ وہ ایک ایسی حکومت کے لیے عوام کی مخالفت میں کھڑے نہ ہوں جس کا اختتام قریب ہے۔
خیال رہے کہ ایران اسرائیل تنازع کے دوران ایران کے سابق ولی عہد کی سرگرمیاں اچانک سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں رضا پہلوی مقبوضہ بیت المقدس کے دورے پر نظر آئے ہیں جہاں وہ یہودیوں کے مقدس مقام دیوار گریہ پر بھی پہنچے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔