امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ بہت ہوگیا، امریکا کو ایران کے خلاف نیتن یاہو کی غیرقانونی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقی وسطیٰ میں جنگ میں شرکت امریکا کی بڑی اور مہلک غلطی ہوگی، جنگ میں شامل ہونے کے بجائے امریکی صدر کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسرائیل کو جارحیت سے روکنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران-اسرائیل جنگ، کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹ جائیں گے؟

برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی کرکے ایران پر حملہ کردیا۔ اسرائیل کا حملہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا مترادف تھا۔ ہمارے انٹیلجنس نے کبھی یہ اشارہ نہیں دیا کہ ایران نے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی سینیٹر نے کہا کہ ایران میں موجودہ حکومت 1953 میں مغربی حکومتوں کے ایما پر ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں سامنے آئی جب ایک منتخب حکومت کو گھر بھیج کر مطلق العنان بادشاہت کو موقع دیا گیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی آئین اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف فوجی حملہ امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

senator bernie sanders اسرائیل امریکی کانگریس ایران برنی سینڈرز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی کانگریس ایران

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام