حریت رہمنا نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، انسانی بحران اور بدامنی کا شکار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق غلام محمد صفی نے ایک بیان میں حکومتِ ایران اور ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری اور مئوثر نوٹس لے۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، انسانی بحران اور بدامنی کا شکار ہے، ایسے میں اسرائیل کا ایران پر حملہ نہ صرف ایک خودمختار ریاست کی سالمیت پر حملہ ہے بلکہ یہ پورے خطے کو جنگ، انتشار اور تباہی کی طرف دھکیلنے کی دانستہ کوشش ہے۔ انہوں نے اس حملے کو اسرائیل کی جاری توسیع پسندانہ پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا، جسے عالمی طاقتوں کی مسلسل چشم پوشی اور دوہرے معیار نے مزید شہ دی ہے۔ غلام محمد صفی نے مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح فلسطین کے حق خود ارادیت کو عالمی سطح پر نظر انداز کیا گیا، اسی طرح کشمیری عوام کی جائز اور دیرینہ جدوجہد کو بھی دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت اور بھارتی ظلم و جبر میں گہری مماثلت ہے اور یہ دونوں مظلوم اقوام کے خلاف عالمی طاقتوں کی منافقانہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہیں۔ غلام محمد صفی نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے ایک بار پھر مجرمانہ خاموشی اختیار کی تو اس کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت غلام محمد صفی نے عالمی برادری کہا کہ

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم