عالمی برادری ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے، غلام محمد صفی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
حریت رہمنا نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، انسانی بحران اور بدامنی کا شکار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق غلام محمد صفی نے ایک بیان میں حکومتِ ایران اور ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری اور مئوثر نوٹس لے۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، انسانی بحران اور بدامنی کا شکار ہے، ایسے میں اسرائیل کا ایران پر حملہ نہ صرف ایک خودمختار ریاست کی سالمیت پر حملہ ہے بلکہ یہ پورے خطے کو جنگ، انتشار اور تباہی کی طرف دھکیلنے کی دانستہ کوشش ہے۔ انہوں نے اس حملے کو اسرائیل کی جاری توسیع پسندانہ پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا، جسے عالمی طاقتوں کی مسلسل چشم پوشی اور دوہرے معیار نے مزید شہ دی ہے۔ غلام محمد صفی نے مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح فلسطین کے حق خود ارادیت کو عالمی سطح پر نظر انداز کیا گیا، اسی طرح کشمیری عوام کی جائز اور دیرینہ جدوجہد کو بھی دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت اور بھارتی ظلم و جبر میں گہری مماثلت ہے اور یہ دونوں مظلوم اقوام کے خلاف عالمی طاقتوں کی منافقانہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہیں۔ غلام محمد صفی نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے ایک بار پھر مجرمانہ خاموشی اختیار کی تو اس کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت غلام محمد صفی نے عالمی برادری کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔