پاکستان اور چین کے درمیان5سالہ ٹیکنالوجیو مہارت کا تاریخی معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن)پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجی منتقلی کے لیے 5 سالہ تاریخی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، جو ایس آئی ایف سی کی سرپرستی میں ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔یہ معاہدہ پاکستان انڈسٹریل سیونگ مشینز امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن (پسمیڈا) اور چینی تنظیم گوانگ ڈونگ شو میکنگ مشینری ایسوسی ایشن کے درمیان طے پایا ہے۔ معاہدے کا بنیادی مقصد پاکستان میں جوتا سازی، چمڑے اور گارمنٹس کی صنعتوں میں جدید مشینری اور مہارت کا فروغ ہے۔پسمیڈا کے وائس چیئرمین محمد یاسین نے چین کے شہر گوانگڑو میں منعقدہ عالمی نمائش “جسما” میں شرکت
کر کے پاکستان کی نمائندگی کی اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں پاک-چین صنعتی تعاون، مہارت کی منتقلی، اور اسٹریٹجک ترقی کے امکانات پر گفتگو کی۔محمد یاسین نے معاہدے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مقامی صنعتوں کو فائدہ ہوگا بلکہ تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری سے پاکستانی لیبر مارکیٹ میں بھی بہتری آئے گی۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تربیت کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔