سابق سینیٹر مشتاق احمد نے وزیر خارجہ کے بیان کو شرمناک اور قابل مذمت قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جولائی 2025ء) سابق سینیٹر مشتاق احمد نے وزیر خارجہ کے بیان کو شرمناک اور قابل مذمت قرار دے دیا، کہا اسحاق ڈار عافیہ صدیقی کی ظالمانہ قید کو اس لیے درست قرار دے رہے ہیں تاکہ عمران خان کی غیر قانونی قید، سیاسی انتقام کا جواز پیش کر سکیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق سینیٹر اور جماعت اسلامی کے سینئر رہنما مشتاق احمد کی جانب سے عافیہ صدیقی کی قید سے متعلق وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیان پر ردعمل دیا گیا ہے۔
مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ "اسحاق ڈار صاحب، کیا آپ کو عافیہ کیس کا علم ہے؟۔ موجودہ حکومت کا عمران خان کیخلاف اپنے سیاسی انتقام کو جواز فراہم کرنے کیلئے مظلوم ڈاکٹر عافیہ کیخلاف فراڈ امریکی عدالتی کاروائی کو درست قرار دینا شرمناک حرکت ہے،میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔(جاری ہے)
اسحاق ڈار نے ایٹلانٹک کونسل میں خطاب کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کی دہائیوں پر محیط ظالمانہ قید کو "قانونی طریقہ کار" کے تحت درست قرار دیا، تاکہ وہ اپنی حکومت کی جانب سے عمران خان کی غیر قانونی قید کا جواز پیش کر سکیں۔
یہ شہباز حکومتِ کی جانب سے ناقابل معافی حرکت ہے۔ قانونی طریقہ کار" اس چیز کو نہیں کہتے جس میں عافیہ کو بچوں سمیت پاکستان سے اغواء کیاجائے،غیر قانونی طور پر،پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئےافغانستان اور پھر امریکا منتقل کیاجائے۔عافیہ کے خلاف کوئی گواہ نہ ہو، جھوٹ بولا جائے اور تمام مقدمہ ہی جھوٹ پر مبنی ہو۔اسےانصاف کی ناکامی کہا جاتا ہے، نہ کہ قانونی طریقہ کار۔" واضح رہے کہ اسحاق ڈار نے عافیہ صدیقی کو ہونے والی سزا بالکل درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں عافیہ صدیقی کو ہونے والی سزا بالکل درست اور باقاعدہ پراسس کے بعد ہوئی۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی عدالتوں سے سزا سے متعلق سوال پر عافیہ صدیقی کیس کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں منصفانہ قانونی عمل اس وقت بھی جاری ہے، اس کیس کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ امریکا میں اٹلانٹک کونسل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر اسحاق ڈار نے کہا جب کوئی ریاست کے مقابل ہتھیار اٹھائے گا اور وہ سب کچھ کرے گا جو نو مئی کو کیا گیا تو قانون اپنا راستہ لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں منصفانہ قانونی عمل اس وقت بھی جاری ہے، اس کیس کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، جس طرح عافیہ صدیقی کئی عشروں سے امریکا میں قید ہیں، نہ جانے کب تک رہیں گی، اس پر یہ کہنا مناسب نہیں کہ منصفانہ قانونی عمل اختیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سیاست سے پہلے چندے کے لئے میرے پاس آتے تھے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ اگست 2014 کے دھرنے سے معاشی نقصان ہوا، کوئی پاپولر لیڈر ہے تو اسے کوئی حق نہیں کہ سیکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عافیہ صدیقی کی عمران خان کی اسحاق ڈار نے مشتاق احمد
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔