Islam Times:
2026-07-24@06:53:59 GMT

غزہ کے لوگ چلتی پھرتی لاشیں بن چکی ہیں، UNRWA

اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT

غزہ کے لوگ چلتی پھرتی لاشیں بن چکی ہیں، UNRWA

اپنے ایک بیان میں UNRWA کے کمشنر جنرل کا کہنا تھا کہ جب والدین کے پاس کھانے کو کچھ نہیں بچتا تو پورا انسانی نظام ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ ماں باپ خود اتنا بھوکے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں مشغول اقوام متحدہ کے ادارے UNRWA کے کمشنر جنرل "فلپ لازارینی" نے غزہ میں انسانی بحران کی گہرائی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح غزہ میں میرے ایک ساتھی نے مجھ سے کہا کہ یہاں کے لوگ نہ زندہ ہیں اور نہ مردہ، وہ صرف حرکت کرنے والی لاشیں ہیں۔ UNRWA کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ شہر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے اور ایسے کیسز دن بہ دن بڑھ رہے ہیں۔ فلپ لازارینی نے کہا کہ ہمارے مراکز پر آنے والے زیادہ تر بچے انتہائی کمزور، شدید لاغر اور موت کے دہانے پر ہیں۔ اگر انہیں فوری طور پر طبی امداد نہ ملی تو ان کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی جانب اشارہ کیا جن میں 100 سے زائد افراد کی موت کی خبریں ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

فلپ لازارینی نے خبردار کیا کہ یہ بحران پھیل رہا ہے اور یہاں تک کہ وہ امدادی کارکن بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جو دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب والدین کے پاس کھانے کو کچھ نہیں بچتا تو پورا انسانی نظام ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ ماں باپ خود اتنا بھوکے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ UNRWA کے کمشنر جنرل نے غزہ کے محاصرے کے جاری رہنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی آبادی میں اب مزید برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔ ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ فلپ لازارینی نے غزہ کی پٹی میں بلا شرط انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال، UNRWA کے پاس اردن اور مصر کی سرحدوں پر غزہ میں داخلے کے لیے خوراک اور ادویات سے لدے تقریباً 6000 ٹرک تیار ہیں۔ تاہم سیاسی اور سکیورٹی رکاوٹیں دور کئے بغیر یہ امداد عوام تک نہیں پہنچ پائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا