غزہ کے لوگ چلتی پھرتی لاشیں بن چکی ہیں، UNRWA
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں UNRWA کے کمشنر جنرل کا کہنا تھا کہ جب والدین کے پاس کھانے کو کچھ نہیں بچتا تو پورا انسانی نظام ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ ماں باپ خود اتنا بھوکے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں مشغول اقوام متحدہ کے ادارے UNRWA کے کمشنر جنرل "فلپ لازارینی" نے غزہ میں انسانی بحران کی گہرائی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح غزہ میں میرے ایک ساتھی نے مجھ سے کہا کہ یہاں کے لوگ نہ زندہ ہیں اور نہ مردہ، وہ صرف حرکت کرنے والی لاشیں ہیں۔ UNRWA کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ شہر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے اور ایسے کیسز دن بہ دن بڑھ رہے ہیں۔ فلپ لازارینی نے کہا کہ ہمارے مراکز پر آنے والے زیادہ تر بچے انتہائی کمزور، شدید لاغر اور موت کے دہانے پر ہیں۔ اگر انہیں فوری طور پر طبی امداد نہ ملی تو ان کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی جانب اشارہ کیا جن میں 100 سے زائد افراد کی موت کی خبریں ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔
فلپ لازارینی نے خبردار کیا کہ یہ بحران پھیل رہا ہے اور یہاں تک کہ وہ امدادی کارکن بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جو دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب والدین کے پاس کھانے کو کچھ نہیں بچتا تو پورا انسانی نظام ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ ماں باپ خود اتنا بھوکے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ UNRWA کے کمشنر جنرل نے غزہ کے محاصرے کے جاری رہنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی آبادی میں اب مزید برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔ ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ فلپ لازارینی نے غزہ کی پٹی میں بلا شرط انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال، UNRWA کے پاس اردن اور مصر کی سرحدوں پر غزہ میں داخلے کے لیے خوراک اور ادویات سے لدے تقریباً 6000 ٹرک تیار ہیں۔ تاہم سیاسی اور سکیورٹی رکاوٹیں دور کئے بغیر یہ امداد عوام تک نہیں پہنچ پائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔