کراچی: حوالہ و ہنڈی میں ملوث گینگ کے دو رکن گرفتار، کروڑوں روپے کی ملکی و غیرملکی کرنسی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
کراچی:
ایف آئی اے کراچی زون نے حوالہ و ہنڈی میں ملوث منظم گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن میں کورنگی سے منظم گینگ کے 2 ملزمان کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں ملکی و غیرملکی کرنسی برآمد کرلی جس کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان کی نشاندہی پر کروڑوں روپے مالیت کی ملکی وغیر ملکی کرنسی برآمد کرلی گئی، ملزمان کے خلاف کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی، ملزمان کورنگی انڈسٹریل ایریا سے حوالہ ہنڈی کی رقم وصول کر رہے تھے، ملزمان حوالہ ہنڈی رقوم کی ترسیل کے لئے موٹر سائیکل کا استعمال کرتے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم محمد جنید اور وسیم سے 8 لاکھ روپے برآمد کر لئے گئے، گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر سمعیہ لگژری ہومز میں ایف آئی اے نے ایک اور چھاپہ مارا اور گھر سے بڑی مقدار میں پاکستانی و غیر ملکی کرنسی، لیجرز برآمد کرلیے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق برآمد شدہ کرنسی میں 99 لاکھ روپے، 13,500 پاؤنڈ، 6,300 امریکی ڈالر، 14,500 سعودی ریال، 10900 یو اے ای درہم، 1150 یورو اور 8000 تھائی بھات اور 23 لاکھ روپے مالیت کے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس شامل ہیں، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جب کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملکی کرنسی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔