یمن کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 54 افریقی پناہ گزین ہلاک، درجنوں لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
یمن کے جنوبی صوبے ابین کی مقامی حکام کے مطابق اتوار کے روز ایک کشتی کے الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 54 افریقی پناہ گزین اور تارکین وطن ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
زنجبار میں محکمہ صحت کے ڈائریکٹر عبدالقادر بجمیل نے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے ساحلی علاقوں اور گرد و نواح سے 54 لاشیں نکالی ہیں جبکہ 12 زندہ بچ جانے والوں کو شقرہ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ویتنام میں سیاحتی کشتی طوفان کی زد میں آکر الٹ گئی، 34 افراد ہلاک
یہ کشتی ہفتہ کی شام شدید ہواؤں کے باعث ابین گورنری کے ساحل شقرہ کے قریب بحیرہ عرب میں الٹ گئی۔ کشتی میں تقریباً 150 افراد سوار تھے جن میں زیادہ تر کا تعلق ایتھوپیا سے تھا۔
عبدالقادر بجمیل نے مزید بتایا کہ حکام ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے شقرہ شہر کے قریب ایک مقام پر انتظامات کر رہے ہیں جبکہ خراب موسم کے باوجود تلاش اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لیبیا کے پانیوں میں ایک اور کشتی حادثہ، ڈوبنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں
الجزیرہ کے مطابق یمن اور افریقہ کے ہارن (Horn of Africa) کے درمیان آبی راستے اکثر تارکین وطن کے لیے استعمال ہوتے ہیں تاہم یہ راستے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ 2014 میں یمن میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد یہاں سے فرار ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔
واضح رہے کہ اپریل 2022 میں حوثی باغیوں اور سرکاری فورسز کے درمیان ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد سے تشدد میں کمی اور انسانی بحران میں جزوی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تارکین وطن حادثہ کشتی یمن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تارکین وطن کشتی
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔