ترجمان کیسکو کے مطابق مسلح افراد نے گرڈ اسٹیشن میں اندھا دھند فائرنگ کی اور کنٹرول روم، ہائی پاور ٹرانسفارمر، سی ٹیز، کنزرویٹو ٹینک، ریڈیٹر ٹیوب، اے سی، ڈی سی پینل اور دیگر برقی آلات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے ترجمان کے مطابق گزشتہ شب 132 کے وی زرد غلام جان منگچر گرڈ اسٹیشن پر تقریباً 20 مسلح افراد نے حملہ کرکے عملے اور سکیورٹی گارڈ کو یرغمال بنا لیا۔ مسلح افراد نے گرڈ اسٹیشن میں اندھا دھند فائرنگ کی اور کنٹرول روم، ہائی پاور ٹرانسفارمر، سی ٹیز، کنزرویٹو ٹینک، ریڈیٹر ٹیوب، اے سی، ڈی سی پینل اور دیگر برقی آلات کو شدید نقصان پہنچایا۔ ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے توڑ پھوڑ کے بعد گرڈ اسٹیشن سے 12 بور رائفل بھی اپنے ساتھ لے گئے اور عملے کو گرڈ چھوڑنے کی دھمکی دی۔ واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج کے لئے کیسکو نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں تحریری درخواست جمع کرا دی ہے۔ اسی شب ایک اور واقعے میں چوروں نے کچلاک بائی پاس کے قریب 132 کے وی یارو-انڈسٹریل ٹرانسمیشن لائن پر رسیوں کے ذریعے تکنیکی خرابی پیدا کی اور تقریبا 700 میٹر کنڈکٹرز اور دیگر برقی سامان چوری کر لیا۔ کیسکو کے اہلکاروں نے مقامی انتظامیہ اور پولیس کے ہمراہ رات گئے پیٹرولنگ بھی کی۔ کیسکو ترجمان کے مطابق پچھلے ایک ماہ کے دوران کوئٹہ، مستونگ، قلات، دشت اور سبی سمیت مختلف علاقوں میں برقی تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور چوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی اثاثوں کی حفاظت کے لئے چوروں کی نشاندہی میں مدد فراہم کریں، تاکہ ان کے خلاف بروقت قانونی کارروائی کی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسلح افراد نے گرڈ اسٹیشن کے مطابق

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا