منگچر گرڈ اسٹیشن پر مسلح افراد نے حملہ کرکے عملے کو یرغمال بنا لیا، ترجمان کیسکو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
ترجمان کیسکو کے مطابق مسلح افراد نے گرڈ اسٹیشن میں اندھا دھند فائرنگ کی اور کنٹرول روم، ہائی پاور ٹرانسفارمر، سی ٹیز، کنزرویٹو ٹینک، ریڈیٹر ٹیوب، اے سی، ڈی سی پینل اور دیگر برقی آلات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے ترجمان کے مطابق گزشتہ شب 132 کے وی زرد غلام جان منگچر گرڈ اسٹیشن پر تقریباً 20 مسلح افراد نے حملہ کرکے عملے اور سکیورٹی گارڈ کو یرغمال بنا لیا۔ مسلح افراد نے گرڈ اسٹیشن میں اندھا دھند فائرنگ کی اور کنٹرول روم، ہائی پاور ٹرانسفارمر، سی ٹیز، کنزرویٹو ٹینک، ریڈیٹر ٹیوب، اے سی، ڈی سی پینل اور دیگر برقی آلات کو شدید نقصان پہنچایا۔ ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے توڑ پھوڑ کے بعد گرڈ اسٹیشن سے 12 بور رائفل بھی اپنے ساتھ لے گئے اور عملے کو گرڈ چھوڑنے کی دھمکی دی۔ واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج کے لئے کیسکو نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں تحریری درخواست جمع کرا دی ہے۔ اسی شب ایک اور واقعے میں چوروں نے کچلاک بائی پاس کے قریب 132 کے وی یارو-انڈسٹریل ٹرانسمیشن لائن پر رسیوں کے ذریعے تکنیکی خرابی پیدا کی اور تقریبا 700 میٹر کنڈکٹرز اور دیگر برقی سامان چوری کر لیا۔ کیسکو کے اہلکاروں نے مقامی انتظامیہ اور پولیس کے ہمراہ رات گئے پیٹرولنگ بھی کی۔ کیسکو ترجمان کے مطابق پچھلے ایک ماہ کے دوران کوئٹہ، مستونگ، قلات، دشت اور سبی سمیت مختلف علاقوں میں برقی تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور چوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی اثاثوں کی حفاظت کے لئے چوروں کی نشاندہی میں مدد فراہم کریں، تاکہ ان کے خلاف بروقت قانونی کارروائی کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلح افراد نے گرڈ اسٹیشن کے مطابق
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔