وزیرِ اعظم اور حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، فلسطینوں پر جاری اسرائیلی بربریت پر اظہارِ تشویش
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
سٹی 42 : وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، دونوں رہنماؤں نے غزہ میں نہتے فلسطینوں پر جاری اسرائیلی بربریت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔
وزیرِ اعظم نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کی امداد کی ترسیل کی بندش اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی غذائی قلت کی شدید الفاظ میں مذمت کی، ساتھ ہی غزہ میں دن بہ دن بڑھتے انسانیت سوز صہیونی مظالم کی بھی بھرپور مزمت کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امداد کی بندش کو ختم کرنے اور بھوک سے سسکتے بچوں اور خواتین سمیت فسلطینی بہن بھائیوں تک اشیاءِ خوردونوش کی ترسیل بحال کرنے کے حوالے سے ہر سطح پر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا.
مرغی کی قیمت نے شہریوں کے ہوش اڑا دئیے
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اقوامِ عالم اور دنیا کے ہر فورم پر اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی آواز بن کر ان پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا. جہاں حکومت پاکستان غزہ میں ظلم کا شکار فلسطینی بہن بھائیوں کو سفارتی ذرائع سے امدادی سامان پہنچاتی رہی، وہیں الخدمت فاؤنڈیشن نے ملک گیر مہم چلا کر غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنائی.
وزیرِ اعظم نے امیر جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کی غزہ متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کے اس احسن اقدام اور کوششوں کو سراہا.
محکمہ سوشل ویلفیئر میں 15 ڈاکٹروں کی بھرتیوں کی منظوری
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فلسطینی راہنماؤں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے اور اپیل کی ہے وزیراعظم پاکستان قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی، غذائی امداد کی فراہمی کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اور پورا عالم اسلام پاکستان اور اس کی قیادت سے بڑی امیدیں رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم اسلامی ممالک سمیت بین الاقوامی برادری سے خصوصی رابطہ کریں اور لیڈنگ رول ادا کریں۔
میٹرک میں خراب نتائج دینےوالےسکول سربراہان و اساتذہ کیخلاف کارروائی ہوگی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بہن بھائیوں
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔