برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا وزیراعظم اسٹارمر کو خط، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا وزیراعظم اسٹارمر کو خط، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 26 July, 2025 سب نیوز
لندن(آئی پی ایس )برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریبا 221 ارکان پارلیمنٹ نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق کانفرنس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی پارلیمنٹیرینز کی جانب 25 جولائی کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہم آپ کو 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس سے قبل یہ خط لکھ رہے ہیں تاکہ فلسطینی ریاست کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے لیے اپنی حمایت ریکارڈ پر لا سکیں۔
اراکین پارلیمنٹ نے لکھا کہ ہمیں امید ہے کہ اس کانفرنس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ برطانوی حکومت دو ریاستی حل کے حوالے سے اپنے دیرینہ وعدے پر عمل درآمد کا وقت اور طریقہ کار کا تعین کرے گی اور یہ بھی واضح کرے گی کہ وہ اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کس طرح تعاون کرے گی۔
خط میں کہا گیا کہ اگرچہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ برطانیہ کے پاس ایک آزاد اور خودمختار فلسطین کے قیام کا واحد اختیار نہیں، لیکن برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا ایک مثر اقدام ہوگا، خاص طور پر ہماری تاریخی وابستگی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کی وجہ سے، ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ یہ قدم ضرور اٹھایا جائے۔
فلسطین کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کرنا ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ برطانیہ ہی نے بلفور ڈیکلریشن کا اجرا کیا تھا اور فلسطین میں سابقہ مینڈیٹری طاقت رہا ہے، 1980 سے ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے آئے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے اراکین کی جانب سے لکھے خط میں مزید کہا گیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا نہ صرف اس مقف کو عملی حیثیت دے گا بلکہ ان تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا جو اس مینڈیٹ کے تحت ہم پر عائد ہوتی ہیں۔
وزیراعظم کیئراسٹارمر کو لکھے خط میں کہا گیا کہ یہ ایک بین الجماعتی خط ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے مختلف سیاسی حلقے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں، دو ریاستی حل گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام پارٹیوں کا مشترکہ مقف رہا ہے۔
خط میں مزید لکھا گیا کہ اکتوبر 2014 کو ایوانِ زیریں نے بھاری اکثریت سے درج ذیل قرارداد منظور کی تھی کہ یہ ایوان یقین رکھتا ہے کہ حکومت کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کی ریاست کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔یہی مقف آج بھی اس خط پر دستخط کرنے والوں کا ہے، اور ہم آپ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کانفرنس میں فلسطین کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔
دریں اثنا، لندن میں ہزاروں مظاہرین نے غزہ میں فلسطینیوں تک خوراک کی رسائی بحال کرنے کے لیے مظاہرے میں شرکت کی اور اسرائیل کی غزہ پٹی کو بھوک میں دھکیلنے کی مذمت کی۔قبل ازیں، 24 جولائی کو فرانسیسی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا اور وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں باضابطہ اعلان کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی سینٹکام کے کمانڈر جنرل مائیکل کوریلا کو نشانِ امتیاز ملٹری اعزاز سے نواز دیا گیا امریکی سینٹکام کے کمانڈر جنرل مائیکل کوریلا کو نشانِ امتیاز ملٹری اعزاز سے نواز دیا گیا آئندہ خیبر پختونخوا میں حکومت مسلم لیگ ن کی ہوگی : رانا تنویر کا دعوی ایشیا کپ کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا، پاکستان، بھارت ، یو اے اور عمان کو گروپ اے میں شامل گلگت میں مٹی اورکیچڑ کا سیلاب، مکانات تباہ، سیکڑوں کنال اراضی کو نقصان عالمی خطرات، پیچیدہ ہائبرڈ چیلنجز میں باہمی فوجی تعاون ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل پی ٹی آئی اے پی سی بلائے تو ہم جائیں گے: میاں افتخار حسینCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کو تسلیم اسٹارمر کو تسلیم کرنے
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :