اسرائیلی فوج کے تہران میں جوہری تحقیقی مرکز پر حملے، 3 میزائل لانچرز کی تباہی اور ایرانی کمانڈر کو شہید کرنے کادعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے رات گئے تہران میں ایرانی فوجی تنصیبات اور ایک جوہری تحقیقاتی مرکز پر وسیع فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، صہیونی فوج کے ان حملوں میں 60 سے زائد لڑاکا طیارے شامل تھے، جنہوں نے 120 بم اور میزائل داغے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں تہران میں واقع متعدد میزائل سازی کے کارخانے شامل تھے، جو ایران کی وزارت دفاع کے صنعتی مرکز کے طور پر کام کر رہے تھے۔
فوج کے مطابق ان اہداف میں وہ فوجی صنعتی مقامات شامل تھے جہاں میزائل کے پرزے تیار کیے جا رہے تھے، اور وہ تنصیبات بھی جہاں میزائل انجن کے لیے خام مال تیار کیا جا رہا تھا۔
یہ حملے ایس پی این ڈی جوہری منصوبے کے صدر دفتر پر بھی کیے گئے، جو صہیونی فوج کے مطابق اس جنگ کے دوران پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایس پی این ڈی جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی تحقیق و ترقی کا مرکز ہے، جو ایرانی حکومت کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتا ہے، اسے 2011 میں محسن فخری زادہ نے قائم کیا تھا، جو ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ایک اور مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے ایک کلیدی جزو تیار کیا جا رہا تھا۔
دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے آج ایران کے مزید 3 میزائل لانچرز تباہ کرنے اور ایرانی ملٹری کمانڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کارروائی کی ڈرون فوٹیج بھی جاری کردی ہے۔
דובר צה"ל: צה"ל תקף לפני זמן קצר שלושה משגרי טילים שהיו מוכנים לשיגור מאיראן לשטח מדינת ישראל.
צילום: דובר צה"ל@Itsik_zuarets pic.twitter.com/Pq4alwVSbQ
— כאן חדשות (@kann_news) June 20, 2025
صہیونی فوج کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے حالیہ کارروائی میں ایران میں واقع 3 بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا، جو اسرائیل پر حملے کے لیے تیار حالت میں تھے۔
اس حملے میں ایک ایرانی فوجی کمانڈر کو بھی ہلاک کر دیا گیا، جو اس لانچ سائٹ پر موجود تھا اور میزائلوں کی تیاری میں ملوث تھا۔
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے مطابق فوج کے کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔